We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

حرام کے پاس ہوا تو جب تک وہ تمہارے لیے عہد پر قائم رہیں تم ان کے لیے قائم رہو  بیشک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں۔

 

 

ترجمۂکنزُالعِرفان:اللہ اور اس کے رسول کے پاس مشرکوں کے لئے کوئی عہد کیسے ہوگا؟ سوائے ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے نزدیک معاہدہ کیا تو جب تک وہ تمہارے لیے عہد پر قائم رہیں توتم ان کے لیے قائم رہو۔ بیشک اللہ پرہیزگاروں سے محبت فرماتا ہے۔

{ کَیۡفَ یَکُوۡنُ لِلْمُشْرِکِیۡنَ عَہۡدٌ عِنۡدَ اللہِ وَعِنۡدَ رَسُوۡلِہٖۤ:اللہ اور اس کے رسول کے پاس مشرکوں کے لئے کوئی عہد کیسے ہوگا؟} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکوں کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس کوئی عہد نہیں ہے کیونکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ساتھ کفر اور عہد شکنی کیا کرتے ہیں البتہ  بنی کنانہ اور بنی ضمرہ وغیرہ جن لوگوں سے تم نے صلحِ حدیبیہ کے موقع پر مسجد ِحرام کے نزدیک معاہدہ کیا تھا اور ان سے کوئی عہد شکنی ظہور میں نہ آئی تو ان کے معاہدہ کی مدت پوری کرو اور معاہدے کی مدت کے اندر جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں ، تم بھی قائم رہو اگر وہ اس دوران میں عہد توڑ دیں تو تم بھی ان سے جنگ کرو۔ (1)

عہد شکنی حرام ہے:

        اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کفار سے کئے ہوئے معاہدے بھی پورے کرنے کا حکم دیا ہے تو اس پر افسوس ہے جو مومن کے ساتھ دھوکہ بازی اوربد عہدی سے باز نہ آئے۔ عہد شکنی حرام ہے چنانچہ حدیث مبارک ہے’’ جس شخص میں یہ چار باتیں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔(2)جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔ (3) جب معاہدہ کرے تو اسے توڑ دے۔ (4)جب جھگڑا کرے تو گالیاں دے۔ اگر کسی کے اندر ان میں سے ایک عادت پائی جائے تو اس میں نفاق کا ایک حصہ موجود ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔(2)

کَیۡفَ وَ اِنۡ یَّظْہَرُوۡا عَلَیۡکُمْ لَایَرْقُبُوۡا فِیۡکُمْ اِلًّا وَّلَاذِمَّۃً ؕ یُرْضُوۡنَکُمۡ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۷، ۲/۲۱۸، جلالین، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۷، ص۱۵۵-۱۵۶، مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۷، ص۴۲۷، ملتقطاً۔

2بخاری، کتاب الجزیۃ والموادعۃ، باب اثم من عاہد ثمّ غدر، ۲/۳۷۰، الحدیث: ۳۱۷۸۔