We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

سورۃ التوبہ

سورۂ توبہ کا تعارف

مقامِ نزول:

         سورۂ توبہ مدنیہ ہے مگر اس کی آخری آیات ’’لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ ‘‘ سے آخر تک، ان کو بعض علماء مکی کہتے ہیں۔ (1)

آیات، کلمات اور حروف کی تعداد:

        اس سورت میں 16 رکوع، 129 آیتیں ، 4078 کلمے ، اور 10488 حروف ہیں۔ (2)

’’توبہ ‘‘نام رکھنے کی وجہ :

        اس سورت کے دس سے زیادہ نام ہیں ،ان میں سے یہ دو نام مشہور ہیں (1) توبہ۔ اس سورت میں کثرت سے توبہ کا ذکر کیا گیا اس لئے اسے ’’سورۂ توبہ‘‘ کہتے ہیں۔ (2)بَراء ت۔یہاں اس کا معنی بری الذمہ ہونا ہے، اور اس کی پہلی آیت میں کفار سے براء ت کا اعلان کیا گیا ہے ،اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ براء ت‘‘ کہتے ہیں۔

سورۂ توبہ کے شروع میں ’’بِسْمِ اللہِ‘‘ نہ لکھے جانے کی وجہ:

        اس سورت کے شروع میں بِسْمِ اللہْ نہیں لکھی گئی، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام اس سورت کے ساتھ بِسْمِ اللہْ لے کر نازل ہی نہیں ہوئے تھے اور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بِسْمِ اللہْ لکھنے کا حکم نہیں فرمایا۔ (3)

         حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ بِسْمِ اللہْ امان ہے اور سورۂ توبہ تلوار کے ساتھ امن اٹھادینے کے لئے نازل ہوئی ہے۔ (4)

        صحیح بخاری میں حضرت براء  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ قرآنِ کریم کی سورتوں میں سب سے آخری

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1خازن، تفسیر سورۃ التوبۃ، ۲/۲۱۳۔

2خازن، تفسیر سورۃ التوبۃ، ۲/۲۱۳۔

3جلالین مع صاوی، سورۃ التوبۃ، ۳/۷۸۳۔

4مستدرک، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ التوبۃ، لمَ لم تکتب فی براء ۃ بسم اللہ الرحمن الرحیم؟، ۲/۶۳، الحدیث: ۳۳۲۶۔