We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

سورۂ یوسف

سورۂ یوسف کا تعارف

مقامِ نزول:

        سورۂ یوسف مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور اس سورت کاشانِ نزول یہ ہے کہ یہودیوں کے علماء نے عرب کے سرداروں سے کہا تھا کہ محمد مصطفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے دریافت کرو کہ حضرت یعقو ب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اولاد ملک ِ شام سے مصر میں کس طرح پہنچی اور اُن کے وہاں جاکر آباد ہونے کا سبب کیا ہوا اور حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ کیا ہے؟ اس پر یہ سور ۂ مبارکہ نازل ہوئی۔ (1)

آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:

         اس سورت میں 12 رکوع، 111 آیتیں ، 1600 کلمے اور 7166 حروف ہیں۔ (2)

’’یوسف ‘‘نام رکھنے کی وجہ :

        اس سورت میں اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حالات ِزندگی اور ان کی سیرتِ مبارکہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ یوسف‘‘ رکھا گیا۔

سورۂ یوسف کے بارے میں اَحادیث:

(1)… حضرت عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں ’’ایک دن یہودیوں کے علماء میں سے ایک عالم جو کہ تورات کا قاری تھا حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں حاضر ہوا، اس وقت نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سورۂ یوسف کی تلاوت فرما رہے تھے۔ اس عالم نے سورۂ یوسف سن کر عرض کی: اے محمد (مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)، آپ کو یہ سورت کس نے سکھائی ہے؟ ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ سورت سکھائی ہے۔ وہ یہودی عالم حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا ارشاد سن کر بہت حیران ہوا اور یہودیوں کے پاس آ کر ان سے کہنے لگا ’’کیا تم جانتے ہو،خدا کی قسم! محمد(مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) قرآنِ مجید میں ان باتوں کی تلاوت کرتے ہیں جو تورات

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۱، ص۵۱۹۔

2خازن، تفسیر سورۃ یوسف علیہ الصلاۃ والسلام، ۳/۲۔