We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

سکیں گے،چنانچہ جب وہ اپنے عقیدے کوحقیقت کے خلاف پائیں گے تو اس وقت ان کا یہ عقیدہ ختم ہو جائے گا لیکن تب اس عقیدے کو چھوڑنے کا کوئی فائدہ نہ ہو گا ،یوں دنیا اور آخرت دونوں ہی جگہ وہ خسارے کا شکار ہوں گے۔ (1)

وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰی وَہِیَ ظٰلِمَۃٌ ؕ اِنَّ اَخْذَہٗۤ اَلِیۡمٌ شَدِیۡدٌ ﴿۱۰۲

ترجمۂکنزالایمان: اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر بیشک اس کی پکڑ دردناک کرّی ہے۔

 

 

ترجمۂکنزُالعِرفان:اور تیرے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے جبکہ وہ بستی والے ظالم ہوں بیشک اس کی پکڑ بڑی شدید دردناک ہے ۔

{ وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ:اور تیرے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو خبر دی کہ گزشتہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی امتوں نے جب اپنے رسولوں کی نافرمانی کی تو ان پر اللہ تعالیٰ کا ایسا عذاب نازل ہوا جس نے انہیں جڑسے اکھاڑ کررکھ دیا اور چونکہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اس لئے دنیا میں ہی ان پر عذاب آیا اور اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ وہ عذاب گزشتہ قوموں کے ساتھ ہی خاص نہیں تھا بلکہ اب بھی جو کوئی ان کی طرح ظلم کرے گا تو اس پر بھی ویسا ہی عذاب نازل ہو گا۔ (2)

ظالموں کو نصیحت:

        علامہ صاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ہر ظلم کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ اپنے ظلم سے توبہ کرے اور ظلم کرنا چھوڑ دے نیز جس کا جو حق مارا ہووہ اسے لوٹا دے تاکہ وہ اس عظیم وعید میں داخل نہ ہو کیونکہ یہ آیت گزشتہ امتوں کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر ظالم کو عام ہے، البتہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی امت پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1تفسیر کبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۶/۳۹۶۔

2تفسیر کبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۶/۳۹۶۔