We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

اُن کے کفر کے سبب تین سال تک بارش مَوقوف کردی اور نہایت شدیدقحط نمودار ہوا اور اُن کی عورتوں کوبانجھ کردیا ، جب یہ لوگ بہت پریشان ہوئے تو حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے وعدہ فرمایا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائیں اور اس کے رسول کی تصدیق کریں اور اس کے حضور توبہ و اِستغفار کریں تو اللہ تعالیٰ بارش بھیجے گا اور اُن کی زمینوں کو سرسبز و شاداب کرکے تازہ زندگی عطا فرمائے گااور قوت و اَولاد دے گا۔

استغفار کی برکت:

         حضرت امام حسن  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس تشریف لے گئے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ایک ملازم نے کہا کہ میں مالدار آدمی ہوں مگر میرے ہاں کوئی اولاد نہیں ، مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جس سے اللہ عَزَّوَجَلَّمجھے اولاد دے۔ آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: استغفار پڑھا کرو۔ اس نے استغفار کی یہاں تک کثرت کی کہ روزانہ سا ت سو مرتبہ اِستغفار پڑھنے لگا، اس کی برکت سے اس شخص کے دس بیٹے ہوئے، جب یہ بات حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے اس شخص سے فرمایا کہ تو نے حضرت امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے یہ کیوں نہ دریافت کیا کہ یہ عمل آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہاں سے فرمایا۔ دوسری مرتبہ جب اس شخص کو حضرت امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تو اس نے یہ دریافت کیا۔ حضرت امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ تو نے حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قول نہیں سنا جو اُنہوں نے فرمایا ’وَیَزِدْکُمْ قُوَّۃً اِلٰی قُوَّتِکُمْ ‘‘ (اللہ  تمہاری قوت کے ساتھ مزید قوت زیادہ کرے گا)اور حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا یہ ارشاد نہیں سنا ’ یُمْدِدْکُمْ بِاَمْوٰلٍ وَّ بَنِیۡنَ‘‘(اللہ  مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا) (1)یعنی کثرتِ رزق اور حصولِ اولاد کے لئے اِستغفار کا بکثرت پڑھنا قرآنی عمل ہے۔

قَالُوۡا یٰہُوۡدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَۃٍ وَّمَا نَحْنُ بِتَارِکِیۡۤ اٰلِہَتِنَا عَنۡ قَوْلِکَ وَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۵۳

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1مدارک، ہود تحت الآیۃ: ۵۲، ص۵۰۲۔