We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

مَا لَـیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ؕ اِنِّیۡۤ اَعِظُکَ اَنۡ تَکُوۡنَ مِنَ الْجٰہِلِیۡنَ ﴿۴۶

ترجمۂکنزالایمان: فرمایا اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں تو مجھ سے وہ بات نہ مانگ جس کا تجھے علم نہیں میں تجھے نصیحت فرماتا ہوں کہ نادان نہ بن۔

 

 

ترجمۂکنزُالعِرفان: (اللہ نے) فرمایا: اے نوح! بیشک وہ تیرے گھر والوں میں ہرگز نہیں ، بیشک اس کا عمل اچھا نہیں ، پس تم مجھ سے اس بات کا سوال نہ کرو جس کا تجھے علم نہیں۔ میں تجھے نصیحت فرماتا ہوں کہ تو ان لوگوں میں سے نہ ہو جو جانتے نہیں۔

{ اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنْ اَہۡلِکَ:بیشک وہ تیرے گھر والوں میں ہرگز نہیں تھا۔} اس سے مراد یہ ہے کہ وہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے والوں میں سے ہر گز نہ تھا یا اس سے مراد یہ ہے کہ وہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ان گھر والوں میں سے نہ تھا جن کی آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ نجات کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا۔

نجات کے لئے صرف نسبی قرابت کا اعتبار نہیں :

        اس آیت سے ثابت ہو اکہ نجات کیلئے صرف نسبی قرابت کا اعتبار نہیں بلکہ اس کیلئے ایمان شرط ہے جیسے کنعان کو حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے نسبی قرابت تو بدرجہ اَولیٰ حاصل تھی لیکن چونکہ دینی قرابت یعنی ایمان حاصل نہ تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے قرابت کی نفی فرما دی۔

{ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صٰلِحٍ:بیشک اس کا عمل اچھا نہیں تھا ۔} ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سوال کے بارے میں کلام ہے۔ اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا ’’اے نوح! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، آپ نے جو سوال کیا وہ قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف مسلمانوں کے حق میں شفاعت قبول فرماتا ہے لہٰذا آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اپنے بیٹے کی نجات کا سوال کرنا درست نہیں۔

         تنبیہ: یاد رہے کہ اس سوال سے منصبِ نبوت میں کوئی حَرج واقع نہیں ہوتا کیونکہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام