We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

تومدد ِالٰہی سے دس گنا کافروں پر غالب رہے گی کیونکہ کفار جاہل ہیں اور ان کی جنگ سے غرض نہ حصولِ ثواب ہے نہ خوف ِعذاب، جانوروں کی طرح لڑتے بھڑتے ہیں تو وہ للہیت کے ساتھ لڑنے والوں کے مقابل کیا ٹھہر سکیں گے۔ (1)  بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں پر فرض کردیا گیا کہ مسلمانوں کا ایک فرددس افراد کے مقابلہ سے نہ بھاگے، پھر آیت ’’ اَلۡـٰٔنَ خَفَّفَ اللہُ‘‘ نازل ہوئی تو یہ لازم کیا گیا کہ ایک سو مجاہدین دو سو 200 لوگوں کے مقابلے میں قائم رہیں۔ (2)

          یعنی دس گنا سے مقابلہ کی فرضیت منسوخ ہوئی اور دو گنا کے مقابلہ سے بھاگنا ممنوع رکھا گیا۔

جہاد کی ترغیب:

          اس آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دینے کے حکم سے معلوم ہوا کہ جہاد بہت اعلیٰ عبادت ہے جس کی رغبت دلانے کا حضور پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو حکم دیا گیا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جہاد کی ہر جائز طریقہ سے رغبت دینا جائز ہے۔ غازی کی تنخواہ مقرر کرنا، اس کے بیوی بچوں کی پرورش کرنا، بہادروں کی قدر دانی کرنا سب اس میں داخل ہیں۔

        اس آیت کے علاوہ قرآنِ پاک کی اور کئی آیات میں کفار سے جہاد کرنے کی ترغیب بیان کی گئی ہے،چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

’’ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ہَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی تِجٰرَۃٍ تُنۡجِیۡکُمۡ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۱۰﴾ تُؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تُجٰہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ بِاَمْوٰلِکُمْ وَ اَنۡفُسِکُمْ ؕ ذٰلِکُمْ خَیۡرٌ لَّکُمْ اِنۡ کُنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ ﴿ۙ۱۱‘‘ (3)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! کیا میں تمہیں وہ تجارت بتادوں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچالے۔ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم (اپنا حقیقی نفع) جانتے ہو۔

        ایک مقام پر ارشاد فرمایا

’’اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمْ وَ اَمْوٰلَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ ؕ یُقٰتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ فَیَقْتُلُوۡنَ وَ یُقْتَلُوۡنَ ‘‘ (4)

ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بدلے میں خرید لئے کہ ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں تو (کافروں کو) قتل کرتے ہیں اور شہید ہوتے ہیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1مدارک، الانفال، تحت الآیۃ: ۶۵، ص۴۲۰.

2بخاری، کتاب التفسیر، باب الآن خفّف اللہ عنکم۔۔۔ الخ،  ۳/۲۳۱، الحدیث: ۴۶۵۳.

3الصف۱۰،۱۱.

4التوبہ۱۱۱.