We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

حاصل کروں۔ تمہارا یہ گمان غلط ہے ،میں رسالت کی تبلیغ پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا ،میرا اجر تو اللہ ربُّ العالَمین عَزَّوَجَلَّ کے ذمۂ کرم پر ہے، لہٰذا تم اس فاسد گمان کی وجہ سے اپنے آپ کو اُخروی سعادتوں کے حصول سے محروم نہ کرو۔ (1)

{ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا:اور میں مسلمانوں کو دور نہیں کروں گا۔} حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگ آپ سے کہتے تھے  کہ اے نوح! گھٹیا لوگوں کو اپنی مجلس سے نکال دیجئے تاکہ ہمیں آپ کی مجلس میں بیٹھنے سے شرم نہ آئے۔ اُن کی اس بات کے جواب میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا کہ میں تمہاری وجہ سے مسلمانوں کو اپنے آپ سے دور نہیں کروں گا، کیونکہ ان کی شان تو یہ ہے کہ یہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّسے ملنے والے ہیں اور اس کے قرب سے سرفراز ہوں گے تو میں اُنہیں کیسے نکال دوں ، ہاں اس کے برعکس  میں تم لوگوں کو بالکل جاہل سمجھتا ہوں کیونکہ تم ایمانداروں کو گھٹیا کہتے ہو اور اُن کی قدر نہیں کرتے اور نہیں جانتے کہ وہ تم سے بہتر ہیں۔

مالداروں کو قریب کرنا اور غریبوں کو دور کرنا درست نہیں :

        اس سے پیر صاحبان، علماء و خطباء کو بھی درس حاصل کرنا چاہیے کہ مالداروں کو اپنے قرب میں جگہ دینا، ان کی فرمائش پر فوراً ان کے گھر حاضر ہوجانا جبکہ غریبوں کو خود سے کچھ فاصلے پر رکھنا اور ان کی بار بار کی فریادوں کے باوجود بھی ان پر شفقت نہ کرنا درست نہیں اور نہ ہی ان حضرات کے شایانِ شان ہے۔ نیز مالداروں کیلئے بھی اس آیت میں عبرت ہے کہ دیندار غریبوں کو حقیر سمجھنا کفار کا طریقہ ہے جیسے غریب علماءِ کرام، طُلبائِ دین، مُبلِّغین وغیرہ کو مالدار، سیٹھ صاحبان دو کوڑی کی عزت دینے کو تیار نہیں ہوتے ، چندہ بھی دینا ہو تو دس چکر لگوا کر دیں گے اور ماتھے پر تیوری چڑھا کر دیں گے اور دینے کے بعد انہیں اپنا نوکر سمجھیں گے۔

وَیٰقَوْمِ مَنۡ یَّنۡصُرُنِیۡ مِنَ اللہِ اِنۡ طَرَدۡتُّہُمْ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۳۰

ترجمۂکنزالایمان: اور اے قوم مجھے اللہ سے کون بچالے گا اگر میں انہیں دور کروں گا تو کیا تمہیں دھیان نہیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اے میری قوم! اگر میں انہیں دور کردوں تو مجھے اللہ سے کون بچائے گا ؟ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۲۹، ۶/۳۳۹۔