We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

باقی رہتی، الغرض کسی طرح دو دِل نہ مل سکتے تھے۔ جب رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمبعوث ہوئے اور عرب کے لوگ آپ پر ایمان لائے اور انہوں نے آپ کی اتباع کی تو یہ حالت بدل گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں الفت پیدا فرما دی ، دلوں سے دِیرِیْنہ عداوتیں اور کینے دور ہوئے اور ایمانی محبتیں پیدا ہوئیں۔ یہ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا روشن معجزہ ہے۔ (1)

مسلمانوں کی اِجتماعیت کا سب سے بڑا ذریعہ:

        یاد رہے کہ سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی محبت مسلمانوں کی اِجتِماعِیَّت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ دیکھ لیں کہ مشرق و مغرب کے دولوگ جن کے رنگ، زبان، نسل، معیارِ زندگی سب کچھ ایک دوسرے سے جدا ہو لیکن جب ایک کو یہ پتہ چلتا ہے کہ دوسرا شخص بھی سرورِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا غلام ہے تو فوراً دل میں نرمی و محبت کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللہُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿٪۶۴

ترجمۂکنزالایمان: اے غیب کی خبریں بتانے والے اللہ تمہیں کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے نبی! اللہ تمہیں کافی ہے اور جو مسلمان تمہارے پیروکار ہیں۔

{ یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللہُ:اے نبی!اللہ تمہیں کافی ہے۔}اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے دھوکہ دینے کی صورت میں نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اپنی مدد و نصرت کا وعدہ فرمایا تھا اورا س آیت میں اللہ تعالیٰ نے مطلقاً ہر حال میں اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی مدد ونصرت اور کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے۔ شانِ نزول: ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت غزوۂ بدر میں جنگ سے پہلے نازل ہوئی اور مومنین سے انصار صحابۂ کرام یا انصار و مہاجرین دونوں مراد ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ یہ آیت حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اسلام قبول کرنے سے متعلق نازل ہوئی۔ اس قول کے مطابق یہ آیت مکی ہے اوررسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حکم سے مدنی سورت میں لکھی گئی ہے۔ اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۶۳، ۵/۵۰۱-۵۰۲.