We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

ترجمۂکنزالایمان: وہی ہیں جنہوں نے اپنی جان گھاٹے میں ڈالی اور ان سے کھوئی گئیں جو باتیں جوڑتے تھے۔

 

 

ترجمۂکنزُالعِرفان:یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو خسارے میں ڈال دیا اور ان سے ان کے بہتان گم ہوگئے۔

 { اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ:یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو خسارے میں ڈال دیا۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارِ مکہ نے اللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت کے بدلے بتوں کی عبادت کواختیار کرلیا اور یہ سب سے بڑا خسارہ ہے۔ یہ دین کو دنیا کے بدلے میں بیچ کر خسارے میں پڑ گئے کیونکہ انہوں نے عزت والی چیز دے کر ذلت والی چیز کو اپنا لیا اور یہ دنیا کا خسارہ ہے اور آخرت کا خسارہ یہ ہو گا کہ وہ ذلت والی چیز بھی ہلاک ہو جائے گی اور اس کا کوئی اثر باقی نہ رہے گا۔ (1)

لَاجَرَمَ اَنَّہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ ہُمُ الۡاَخْسَرُوۡنَ ﴿۲۲

ترجمۂکنزالایمان: خواہ نخواہ وہی آخرت میں سب سے زیادہ نقصان میں ہیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ لوگ لازمی طور پر آخرت میں سب سے زیادہ نقصان میں ہوں گے۔

{ لَاجَرَمَ:لازمی طور پر۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارِ مکہ لازمی طور پر آخرت میں سب سے زیادہ نقصان میں ہوں گے کیونکہ عزت و رفعت عطا کرنے والا دین یعنی’’ اسلام‘‘ قبول کرنے پرآخرت میں انہیں جنت اور ا س کی دائمی نعمتیں حاصل ہوتیں لیکن انہوں نے اسلام قبول کرنے کی بجائے ذلت کی گہرائیوں میں پھینک دینے والی چیزیعنی ’’ بتوں کی عبادت‘‘ پر راضی ہو کر آخرت میں جنتی مَنازِل اور ا س کی نعمتوں کو بیچ دیا اور ان کے عِوض آخرت میں جہنم کی منازل اور اس کے دائمی عذابات کو خرید لیا اس لئے وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان میں ہوں گے۔

  آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دینا انتہائی نقصان دِہ ہے:

        اس آیت سے معلوم ہوا کہ اپنی اُخروی بھلائی اور بہتری کے مقابلے دنیا کی بھلائی اور بہتری کو ترجیح دینا انتہائی خسارے کا باعث ہے ا س لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی دنیا بہتر بنانے کے مقابلے میں اپنی آخرت کو بہتر بنانے کی زیادہ کوشش کرے ۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۲۱، ۶/۳۳۴۔