We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

دیں۔} اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ یہ قرآن کو کھلا جادو کہہ کر میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو جھٹلاتے ہیں اور ا س آیت میں ان کفار کی ایک اور باطل گفتگو ذکر فرمائی، وہ یہ کہ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے کفار کو جس عذاب کا وعدہ دیا تھا وہ جب ان سے مُؤخَّر ہوا تو کفار تکذیب اور اِستہزاء کے طور پر کہنے لگے کہ کس وجہ سے ہم سے عذاب روک دیاگیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں جواب دیا کہ جب وہ وقت آجائے گا کہ جسے اللہ تعالیٰ نے عذاب کے لئے متعین فرمایا ہے تو ہم وہ عذاب ان پر ناز ل کر دیں گے جس کا یہ مذاق اڑا رہے ہیں اور وہ عذاب ان سے پھیرا نہ جائے گا بلکہ ان سب کوگھیر لے گا۔ (1)

 اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بے خوفی ہلاکت کا سبب ہے:

        اس آیت سے معلوم ہوا کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بے خوف ہونا ہلاکت کا سبب ہے، اس لئے ہر عقلمند انسان پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے سے ڈرتا رہے اور اس کے عذاب سے کبھی بے خوف نہ ہو۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’میری عزت کی قسم! میں اپنے کسی بندے پر نہ دو خوف جمع کرو ں گا اور نہ دو اَمن جمع کروں گا، اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرے گا تو میں قیامت کے دن اسے امن دوں گا اور اگر وہ دنیا میں مجھ سے امن میں رہے گا تو میں قیامت کے دن اسے خوف میں مبتلا کروں گا۔ (2)

        ہمارے اَسلاف اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے انتہائی دور اور اس کی اطاعت و فرمانبرادری میں بے حد مصروف رہنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بہت ڈرا کرتے تھے ،چنانچہ ایک مرتبہ حضرت فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰیعَلَیْہِنے فرمایا کہ ’’مجھے مقربین پر اس لئے رشک نہیں آتا کہ یہ سب قیامت اور اس کی ہَولناکیوں کا مُشاہدہ کریں گے البتہ مجھے صرف اس پر رشک آتا ہے جو پیدا ہی نہیں ہوا کیونکہ وہ قیامت کے اَحوال اور ا س کی سختیاں نہیں دیکھے گا، اور حضرت سری سقطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا ’’ میری خواہش ہے کہ میں بغداد کے علاوہ کسی اور جگہ انتقال کروں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اگر میری قبر نے مجھے قبول نہ کیا تو کہیں میں لوگوں کے سامنے رسوا نہ ہو جاؤں۔ (3)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۸، ۶/۳۲۱۔

2کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الافعال، الباب الاول فی الاخلاق المحمودۃ، الفصل الثانی، الخوف والرجائ، ۲/۲۸۳، الحدیث: ۸۵۲۵، الجزء الثالث۔

3روح البیان، ہود، تحت الآیۃ: ۸، ۴/۱۰۱۔