We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

فتح و نصرت کی عظیم تدبیر:

        مذکورہ بالا آیت ِ کریمہ فتح و نصرت اور غلبہ و عظمت کی عظیم تدبیر پر مشتمل ہے اور اس آیت کی حقانیت سورج کی طرح روشن ہے جیسے آج کے دور میں دیکھ لیں کہ جس ملک کے پاس طاقت و قوت اور اسلحہ و جنگی سازوسامان کی کثرت ہے اس کا بدترین دشمن بھی اس پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کرتا جبکہ کمزور ملک پر سب مل کر چڑھ دوڑنے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں ، جیسے ایک بڑی طاقت اپنا سب سے بڑا دشمن دوسری بڑی طاقتوں کو سمجھتی ہے لیکن آج تک اس پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کی کیونکہ اُن کے پاس پہلی کا دماغ ٹھیک کرنے کے نسخے موجود ہیں لیکن وہی بڑی طاقتیں اور عالمی امن کے جھوٹے دعویدار کمزور ممالک کو طاقت دکھانے میں شیرہیں اور ان ممالک میں ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ اِسی آیت پر کچھ عمل کی برکت ہے کہ پاکستان پر کھلم کھلا حملہ کرنے کی جسارت کسی کو نہیں ہورہی کیونکہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے ۔ اگر مسلمان مل کر اِس آیت پر عمل کریں تو کیا مجال کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت مسلمانوں کو تنگ کرسکے۔

{ وَ اٰخَرِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِمْ:اور جو اُن کے علاوہ ہیں۔} یہاں دوسرے لوگوں سے کون مراد ہیں ان کے بارے میں مفسرین کاایک قول یہ ہے کہ ان سے مراد بنو قریظہ کے یہودی ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد فارس کے مجوسی ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد منافقین ہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’ لَاتَعْلَمُوۡنَہُمۡ‘‘تم انہیں نہیں جانتے کیونکہ وہ تمہارے ساتھ رہتے ہیں اور اپنی زبانوں سے ’’لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ‘‘ کہتے ہیں جبکہ’’اَللہُ یَعْلَمُہُمْ‘‘ اللہ انہیں جانتا ہے کہ وہ منافق ہیں۔ حضرت حسن بصری  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس سے مراد کافر جنّات ہیں۔ (1)

وَ اِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ ﴿۶۱

ترجمۂکنزالایمان: اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھکو اور اللہ پر بھروسہ رکھو بیشک وہی ہے سنتا جانتا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی مائل ہوجاؤ اوراللہ پر بھروسہ رکھو بیشک وہی سننے والا جاننے والا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۶۰، ۲/۲۰۶.