We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

کَانُوۡا فِیۡہِ یَخْتَلِفُوۡنَ ﴿۹۳

ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو عزت کی جگہ دی اور انہیں ستھری روزی عطا کی تو اختلاف میں نہ پڑے مگر علم آنے کے بعد بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑتے تھے۔

 

 

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو عزت کی جگہ دی اور انہیں پاکیزہ رزق عطا کیا تو وہ اختلاف میں نہ پڑے مگر علم آنے کے بعد ۔ بیشک تمہارا رب قیامت کے دن اُن میں اُس بات کا فیصلہ کردے گا جس میں وہ جھگڑتے تھے۔

{وَلَقَدْ بَوَّاۡنَا بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ:اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو عزت کی جگہ دی۔} یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو عزت کی جگہ ٹھہرایا اور ان کے سمندر سے نکلنے اور ان کے دشمن فرعون کی ہلاکت کے بعد انہیں عزت کے مقام میں اتارا۔ آیت میں عزت کی جگہ سے یا تو ملکِ مصر اور فرعون و فرعونیوں کے اَملاک مراد ہیں یا سرزمینِ شام ، قُدس اور اُردن، جو کہ نہایت سرسبز و شاداب اور زرخیز ملک ہیں۔ (1)

{فَمَا اخْتَلَفُوۡا حَتّٰی جَآءَہُمُ الْعِلْمُ:تو وہ اختلاف میں نہ پڑے مگر علم آنے کے بعد } یہاں علم سے مراد یا تو توریت ہے جس کے معنی میں یہودی آپس میں اختلاف کرتے تھے یا سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری ہے کہ اس سے پہلے تو سب یہودی آپ کے قائل اور آپ کی نبوت پر متفق تھے اور توریت میں جو آپ کی صفات مذکور تھیں ان کو مانتے تھے لیکن تشریف آوری کے بعد اختلاف کرنے لگے ،کچھ ایمان لے آئے اور کچھ لوگوں نے حسدو عداوت کی وجہ سے کفر کیا ۔ ایک قول یہ ہے کہ علم سے قرآنِ مجید مراد ہے۔ (2)

علم اللہ تعالیٰ کا عذاب اور حجاب بھی ہوتا ہی

        اس سے معلوم ہوا کہ جس علم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور حقیقی معرفت نہ ہووہ علم اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب اور

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۳، ۲/۳۳۳۔

2خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۳، ۲/۳۳۳۔