We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

لَا یَعْلَمُوۡنَ ﴿۸۹

ترجمۂکنزالایمان: فرمایا تم دونوں کی دعا قبول ہوئی تو ثابت قدم رہو اور نادانوں کی راہ نہ چلو۔

 

 

ترجمۂکنزُالعِرفان: (اللہ نے )فرمایا: تم دونوں کی دعا قبول ہوئی پس تم ثابت قدم رہو اورنادانوں کے راستے پر نہ چلنا۔

{ قَالَ قَدْ اُجِیۡبَتۡ دَّعْوَتُکُمَا:(اللہ نے ) فرمایا: تم دونوں کی دعا قبول ہوئی۔} اس آیت میں  دعا کی نسبت حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامدونوں کی طرف کی گئی حالانکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دعا کرتے تھے اور حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آمین کہتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آمین کہنے والا بھی دعا کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔یہ بھی ثابت ہوا کہ آمین دعا ہے لہٰذا اس کیلئے اِخفا ہی مناسب ہے۔ (1) یاد رہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا اور اس کی مقبولیت کے درمیان چالیس برس کا فاصلہ ہوا۔ (2) اسی لئے فرمایا گیا کہ ان لوگوں میں سے نہ ہونا جو قبولیت ِ دعا میں دیر ہونے کی حکمتیں نہیں جانتے۔

دعا قبول ہونے میں تاخیر ہونا بھی حکمت ہے:

         اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دعا کی قبولیت میں یہ ضروری نہیں کہ فوراً ہی اس کا اثر ہوجائے بلکہ بعض اوقات حکمت ِ الٰہی سے اس میں ایک عرصے کی تاخیر بھی ہوجاتی ہے، نیز اس شخص کی دعا ویسے ہی قبول نہیں ہوتی جو شور مچائے کہ اس نے بڑی دعا کی مگر قبول نہیں ہوئی چنانچہ حدیث میں ہے، حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بندے کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک کہ وہ گناہ یا قَطعِ رحمی کی دعا نہ مانگے اور جب تک کہ جلد بازی سے کام نہ لے۔ عرض کی گئی :یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جلد بازی کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا ’’ یہ کہے کہ میں نے دعا مانگی اور مانگی مگر مجھے امید نہیں کہ قبول ہو، لہٰذا اس پر دل تنگ ہوجائے اور دعا مانگنا چھوڑ دے۔ (3)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۸۹، ص۴۸۳۔

2خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۸۹، ۲/۳۳۰ ۔

3مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار، باب بیان انّہ یستجاب للداعی ما لم یعجّل فیقول: دعوت فلم یستجب لی، ص۱۴۶۳، الحدیث: ۹۲(۲۷۳۵)۔