We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

کی نسبت ایسا کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آیا کیا یہ جادو ہے اور جادوگر مراد کو نہیں پہنچتے۔بولے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اس سے پھیردو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا اور زمین میں تمہیں دونوں کی بڑائی رہے اور ہم تم پر ایمان لانے کے نہیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: تو جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا تو کہنے لگے : بیشک یہ کھلا جادو ہے۔ موسیٰ نے کہا: کیا تم حق کے بارے میں یہ کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آیا؟ کیا یہ جادو ہے؟ اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔ انہوں نے کہا: آپ ہمارے پاس اس لئے آئے ہیں تاکہ ہمیں اس (دین) سے پھیر دیں جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور زمین میں تم دونوں کی بڑائی ہوجائے اور ہم توتم پر ایمان لانے والے نہیں۔

{ فَلَمَّا جَآءَہُمُ الْحَقُّ:تو جب ان کے پاس حق آیا۔} یعنی جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے واسطے سے فرعون اورا س کی قوم کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق آیااور فرعونیوں نے پہچان لیا کہ یہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو براہ ِنَفسانیت  کہنے لگے کہ بیشک یہ کھلا جادو ہے حالانکہ انہیں علم تھا کہ جادو کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ (1)

حق معلوم ہونے کے بعد قبول نہ کرنا فرعونیوں کا طریقہ ہے:

        اس آیت سے معلوم ہوا کہ حق بات معلوم ہوجانے کے بعد نفسانیت کی وجہ سے اسے قبول نہ کرنا اور اس کے بارے میں ایسی باتیں کرنا جو دوسروں کے دلوں میں حق بات کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کر دیں فرعونیوں کا طریقہ ہے، اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو حق جان لینے کے باوجود صرف اپنی ضد اور اَنا کی وجہ سے اسے قبول نہیں کرتے اور اس کے بارے میں دوسرو ں سے ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے یوں لگتا ہے کہ ان کا عمل درست ہے اور حق بیان کرنے والا اپنی بات میں سچا نہیں ہے۔

سورہِ یونس کی آیت نمبر78سے معلوم ہونے والے مسائل:

        اس آیت سے دو مسئلے معلوم ہوئے۔

(1)… پیغمبر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر بدگمانی کفر ہے۔ فرعونیوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے متعلق یہ بد گمانی کی کہ آپ مصر کی بادشاہت چاہتے ہیں اور بادشاہت حاصل کرنے کے لئے نبوت کا بہانہ بنا رہے ہیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۷۶، ۲/۳۲۷، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۷۶، ص۴۸۱، ملتقطاً۔