We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

اور مسلمانوں نے عقیدہِ شفاعت رکھا لیکن ویسا جیسا ان کے رب کریم عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا۔

وَمَا کَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّۃً وّٰحِدَۃً فَاخْتَلَفُوۡا ؕ وَلَوْلَاکَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنۡ رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیۡنَہُمْ فِیۡمَا فِیۡہِ یَخْتَلِفُوۡنَ ﴿۱۹

ترجمۂکنزالایمان: اور لوگ ایک ہی امت تھے پھر مختلف ہوئے اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو یہیں ان کے اختلافوں کا ان پر فیصلہ ہوگیا ہوتا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور سب لوگ ایک ہی امت تھے پھر مختلف ہوگئے اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے درمیان ان کے باہمی اختلافات کا فیصلہ ہوگیا ہوتا۔

{ وَمَا کَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّۃً وّٰحِدَۃً:اورسب لوگ ایک ہی اُمت تھے۔} یعنی سب لوگ ایک دین اسلام پر تھے جیسا کہ حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے زمانے میں قابیل کے ہابیل کو قتل کرنے کے وقت تک حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی ذُرِّیَّت ایک ہی دین پر تھے، اس کے بعد ان میں اختلاف ہوا ۔

مذہبی اختلاف کی ابتداء کب ہوئی؟

        اس مذہبی اختلاف کی ابتداء سے متعلق مفسرین نے کئی قول ذکر کئے ہیں

        ایک قول یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانہ تک لوگ ایک دین پر رہے پھر ان میں اختلاف واقع ہوا تو حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کی طرف مبعوث فرمائے گئے۔

         دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے کشتی سے اترنے کے وقت سب لوگ ایک دین اسلام پر تھے۔

        تیسرا قول یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے زمانے سے سب لوگ ایک دین پر تھے یہاں تک کہ عمرو بن لُحَی نے دین میں تبدیلی کی، اس قول کے مطابق ’’ اَلنَّاسُ‘‘ سے مراد خاص عرب ہوں گے۔

         بعض علماء نے کہا کہ معنی یہ ہیں کہ لوگ پہلی مرتبہ پیدائش کے وقت فطرتِ سلیمہ پر تھے پھر ان میں اختلافات