We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

ترجمۂکنزُالعِرفان:اور جب ان کے سامنے ہماری روشن آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ہم سے ملاقات کی امید نہ رکھنے والے کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لے کر آؤ یا اسے تبدیل کردو ۔ تم فرماؤ: مجھے حق نہیں کہ میں اسے اپنی طرف سے تبدیل کردوں۔ میں تو اسی کا تابع ہوں جو میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے ۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔

{ وَ اِذَا تُتْلٰی عَلَیۡہِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ:اور جب ان کے سامنے ہماری روشن آیات کی تلاوت کی جاتی ہے۔} شانِ نزول : کفار کی ایک جماعت نے نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں تو آپ اس قرآن کے سوا دوسرا قرآن لائیے جس میں لات،عُزّیٰ، مَنات وغیرہ بتوں کی برائی اور ان کی عبادت چھوڑنے کا حکم نہ ہو اور اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسا قرآن نازل نہ کرے تو آپ اپنی طرف سے بنالیجئے یا اسی قرآن کو بدل کر ہماری مرضی کے مطابق کردیجئے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ ان کا یہ کلام یا تو تمسخر واِستہزاء کے طور پرتھا یا انہوں نے تجربہ و امتحان کے لئے ایسا کہا تھا کہ اگر یہ دوسرا قرآن بنا لائیں یا اس کو بدل دیں تو ثابت ہوجائے گا کہ قرآن کلامِ ربّانی نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو حکم دیا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرما دیں کہ میرے لئے حلال نہیں کہ میں اپنی طرف سے اس میں کوئی تبدیلی کروں۔ میں تو کمی زیادتی اور تبدیلی کے بغیر صرف اسی کا تابع ہوں جو اللہ تعالیٰ میری طرف وحی فرماتا ہے اور یہ میرا کلام نہیں کہ میں اس میں تبدیلی کر سکوں بلکہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کلام ہے اگر میں نے اپنی طرف سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کلام میں کوئی تبدیلی کر کے اس کی نافرمانی کی تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے اور ویسے بھی دوسرا قرآن بنانا انسان کے بس کی بات ہی نہیں کیونکہ انسا ن کااس سے عاجز ہونا تو اچھی طرح ظاہر ہو چکا ہے۔ (1)

اسلام کی کسی قطعی چیز پر کفار سے معاہدہ نہیں ہو سکتا:

        اس آیتِ مبارکہ سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ کفار کے ساتھ اسلام کے قَطْعِیّات میں سے کسی چیز پر کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا کہ ہم ان کی خوشنودی کیلئے اسلام کی کوئی قطعی چیز چھوڑ دیں جیسے ان کی خوشی کیلئے سود کی اجازت دیں ، یا پردے کو ختم کردیں ،یا نمازوں میں کمی کرلیں یا گائے کی قربانی بند کردیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1بغوی، یونس، تحت الآیۃ: ۱۵، ۲/۲۹۳، صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۱۵، ۳/۸۵۹، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۴۶۶، ملتقطاً