We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

اللہ تعالیٰ کو ایک مانیں اور صرف اسی کی عبادت کریں اور ہم اور ہمارے آباؤ اَجداد جن پتھروں اور بتوں کی پوجا کرتے تھے انہیں چھوڑ دیں۔ انہوں نے ہمیں سچ بولنے، امانت داری اور پاکیزگی اختیار کرنے، رشتہ داروں سے نیک سلوک کرنے، پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے، حرام کام اور خون ریزیاں چھوڑ دینے کا حکم دیا، ہمیں بے حیائی کے کام کرنے ، جھوٹ بولنے ، یتیم کا مال کھانے اور پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگانے سے منع کیا اور ہمیں حکم دیاکہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، نماز پڑھیں ، روزہ رکھیں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ پھر ہم نے ان کی تصدیق کی، ان پر ایمان لے آئے اور جو دین وہ لے کر آئے ہم نے ا س کی پیروی کی۔ (1)

میلادِ مصطفی کا بیان:

        اس آیتِ کریمہ میں سیِّد عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی تشریف آوری یعنی آپ کے میلادِ مبارک کا بیان ہے۔ ترمذی کی حدیث سے بھی ثابت ہے کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنی پیدائش کا بیان قیام کرکے فرمایا۔ (2) اس سے معلوم ہوا کہ محفلِ میلاد مبارک کی اصل قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔

حضرت شبلی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا مقام:

        حضرت ابو بکر بن محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو بکر بن مجاہد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت ابو بکر شبلی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تشریف لائے، حضرت ابو بکر بن مجاہد  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کھڑے ہوئے، ان سے معانقہ کیا اور ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔ میں نے عرض کی :یا سیّدی! آپ حضرت شبلی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی اس قدر تعظیم کر رہے ہیں حالانکہ ان کے بارے میں آپ کی اور تمام ا ہلِ بغداد کی رائے یہ ہے کہ یہ دیوانہ ہے! حضرت ابو بکر بن مجاہدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: میں نے ان کے ساتھ اسی طرح کیا ہے جس طرح میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اس کے ساتھ کرتے ہوئے دیکھا ہے ، میں نے خواب میں رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی زیارت کی، پھر دیکھا کہ حضرت شبلی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ آ رہے ہیں ، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت شبلی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کیلئے کھڑے ہوئے اور ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔ میں نے عرض کی : یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ شبلی کو اس قدر عزت دے رہے ہیں ،ارشاد فرمایا: یہ نماز کے بعد پڑھتا ہے ’’ لَقَدْ جَآءَکُمْ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1مسند امام احمد، حدیث جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، ۱ /۴۳۱، الحدیث: ۱۷۴۰۔

2ترمذی، کتاب الدعوات، ۹۶-باب، ۵/۳۱۴، الحدیث: ۳۵۴۳۔