We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

غِلْظَۃً ؕ وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۲۳

ترجمۂکنزالایمان: اے ایما ن والو جہاد کرو ان کافروں سے جو تمہارے قریب ہیں اور چاہئے کہ وہ تم میں سختی پائیں اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے ۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایما ن والو! ان کافروں سے جہاد کرو جو تمہارے قریب ہیں اور وہ تم میں سختی پائیں اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

{ قٰتِلُوا الَّذِیۡنَ یَلُوۡنَکُمۡ مِّنَ الْکُفَّارِ:ان کافروں سے جہاد کرو جو تمہارے قریب ہیں۔} جہاد تمام کافروں سے واجب ہے قریب کے ہوں یا دُور کے لیکن قریب والے مُقَدَّم ہیں پھر جواُن سے مُتّصل ہوں ایسے ہی درجہ بدرجہ ۔ (1)

کفار سے جنگ کرنے کے آداب

        اس آیت میں کفار سے جنگ کے آداب سکھائے گئے ہیں کہ جنگ کی شرعی اجازت جب متحقق ہوجائے تو اس کی ابتدا قریب میں رہنے والے کفار سے کی جائے پھر ان کے بعد جو قریب ہوں حتّٰی کہ مسلمان مجاہدین دور کی آبادیوں میں رہنے والے کفار تک پہنچ جائیں۔ اسی طریقے سے تمام کفار سے جہاد ممکن ہے ورنہ ایک ہی بار سب سے جنگ کرنا مُتَصَوَّر نہیں ،یہی وجہ ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پہلے اپنی قوم سے جہاد فرمایا ،پھر پورے عرب سے ، پھر اہلِ کتاب سے اور ان کے بعد روم اور شام والوں سے جنگ کی۔ پھر نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے وصال کے بعد صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عراق اور پھر تمام شہروں تک جنگ کا دائرہ وسیع کیا۔ (2)

{ وَلْیَجِدُوۡا فِیۡکُمْ غِلْظَۃً:اور وہ تم میں سختی پائیں۔}اس سختی میں جرأت و بہادری، قتال پر صبر اور قتل یا قید کرنے میں شدت وغیرہ ہر قسم کی مضبوطی و سختی داخل ہے۔ (3) جو کفار اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنیں ان سے سختی کے ساتھ نمٹنے کا حکم ہے ، یہاں یہ نہیں فرمایا کہ ہر وقت سختی ہی کرتے رہیں کیونکہ ہمیں تو دورانِ جہاد بھی عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں اور پادریوں وغیرہ کو قتل نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ص۴۶۰۔

2صاوی، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۳/۸۴۹۔

3روح المعانی، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۶/۶۸۔