We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

صفت ’’اَوّاہ‘‘ اور’’ حلیم‘‘ کی خوبیاں :

        یہ دونوں صفات بہت عظیم ہیں اور سیدنا ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان صِفات کے مَظْہَرِ اَتَم تھے ،نیچے ان کے مفہوم کی وضاحت بیان کی جارہی ہے البتہ اس میں گناہوں کو یاد کرکے مغفرت طلب کرنے کی بات دوسروں کے لئے ہے ، حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے نہیں کیونکہ نبی گناہوں سے معصوم ہوتا ہے۔ ’’اَوّاہ‘‘ صفت کی خوبی یہ ہے کہ جس میں یہ صفت پائی جائے وہ بکثرت دعائیں کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور ا س کی تسبیح میں مشغول رہتا ہے، کثرت کے ساتھ قرآنِ مجید کی تلاوت کرتا ہے، اُخرَوی ہولناکیوں اور دہشت انگیزیوں کے بارے میں سن کر گریہ و زاری کرتا ہے، اپنے گناہوں کو یاد کر کے ان سے مغفرت طلب کرتا ہے، نیکی اور بھلائی کی تعلیم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ ہر کام سے بچتا ہے ۔حلیم صفت کی خوبی یہ ہے جس میں یہ صفت پائی جائے وہ اپنے ساتھ برا سلوک کرنے والے پر بھی احسان کرتا ہے اور برائی کا بدلہ برائی سے دینے کی بجائے بھلائی کے ساتھ دیتا ہے اور اسے اگر کسی کی طرف سے اَذِیّت اور تکلیف پہنچے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے۔ اگر کسی سے بدلہ لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر لیتا ہے اور اگر کسی کی مدد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہی مدد کرتا ہے۔

صفت ’’اواہ‘‘ اور’’ حلیم‘‘ کے فضائل:

        ترغیب کے لئے یہاں صفت ’’اوّاہ‘‘ اور’’ حلیم‘‘ کے چند فضائل درج ذیل ہیں ، چنانچہ

        حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَرات کے وقت (ایک صحابی کی تدفین کیلئے) ایک قبر میں داخل ہوئے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے لئے چراغ جلایا گیا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے میت کو قبلہ کی طرف سے پکڑ کر فرمایا ’’اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے ، تو بہت رونے والا اور کثرت سے تلاوتِ قرآن کرنے والا تھا۔ (1)

        حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : حضور پُر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ایک شخص ذوالبجادین کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ ’’ اَوَّاہْ ‘‘ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ قرآنِ مجید کی تلاوت اور دعا کے ذریعے کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ (2)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1ترمذی، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی الدفن باللیل، ۲/۳۳۱، الحدیث: ۱۰۵۹۔

2معجم الکبیر، باب العین، علی بن رباح عن عقبۃ بن عامر، ۱۷/۲۹۵، الحدیث: ۸۱۳۔