We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

جنت اور اس کے لئے جان قربان کرنے والوں کی عظمت:

        اس آیتِ مبارکہ میں جنت کی عظمت کا بھی بیان ہے اور جنت کیلئے جان قربان کردینے والوں کی بھی عظمت بیان ہوئی ہے۔ حضرت امام جعفر صادق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’تمہارے جسموں کی قیمت جنت کے سوا اور کوئی نہیں تو تم اپنے جسموں کو جنت کے بدلے ہی بیچو۔ (1)

        یہاں جنت کی طلب سے متعلق ایک حکایت ملاحظہ ہو، چنانچہ حضرت حکم بن عبدالسلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے (کہ جنگِ موتہ میں ) جب حضرت جعفر بن ابو طالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ شہید کر دیئے گئے تو لوگو ں نے بلند آواز سے حضرت عبداللہ بن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو پکارا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس وقت لشکر کی ایک طرف موجود تھے اور تین دن سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کچھ بھی نہ کھایا تھا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہاتھ میں ایک ہڈی تھی جسے بھوک کی وجہ سے چو س رہے تھے ۔ (جب حضرت جعفربن ابوطالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کی خبر سنی) تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بے تاب ہو کر ہڈی پھینک دی اور یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے: اے عبداللہ! ابھی تک تیرے پاس دُنْیَوی چیز موجود ہے ! پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بڑی بے جگری سے دشمن پر ٹوٹ پڑے ،اس دوران تلوار کے وار سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی انگلی کٹ گئی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ اشعار پڑھے:

         تو نے صرف یہ انگلی کٹوائی ہے اور راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں یہ کوئی بڑا کارنامہ نہیں۔ اے نفس! شہید ہوجا ورنہ موت کا فیصلہ تجھے قتل کرڈالے گا اور تجھے ضرور موت دی جائے گی ۔ تو نے جس چیز کی تمنا کی تجھے وہ چیز دی گئی ۔ اب اگر تو بھی ان دونوں ( یعنی حضرت زید بن حارث اور حضرت جعفر بن ابوطالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا)کی طرح شہید ہو گیا تو کامیاب ہے اور اگر تو نے تاخیر کی تو تحقیق بد بختی تیرا مقدر ہوگی ۔

        پھر اپنے نفس کو مُخاطَب کر کے فرمانے لگے: ’’اے نفس !تجھے کس چیز کی تمنا ہے؟ کیا فلاں کی ؟ تو سن! اسے تین طلاق۔ کیا تجھے فلاں فلاں لونڈی وغلام اور فلاں باغ سے محبت ہے؟ تو سن ! اپنی یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے چھوڑ دے ۔ اے نفس! تجھے کیا ہوگیا کہ تو جنت کو ناپسند کررہا ہے ؟ میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ تجھے اس میں ضرور جانا پڑے گا، اب تیری مرضی چاہے خوش ہوکر جایا مجبور ہو کر ۔جا! خوش ہو کر جا! بے شک تو وہاں مطمئن رہے گا، تو پانی کا ایک قطرہ ہی تو ہے ،( پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دشمن کی صفوں میں گھس گئے اور بالآخر لڑتے لڑتے

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۱، ص۴۵۶۔