We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

(3)…حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں وہ مسجدیں تعمیر کرنے میں ایک دوسرے پر فخر کیا کریں گے اور انہیں آباد کم کیا کریں گے۔(1)

          یاد رہے کہ کسی کے دل کا حال اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے اور ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے ہم کسی کے دل کا حال معلوم کر سکیں اس لئے کسی مسلمان پر بد گمانی کرنے اور اس پر یہ الزام ڈالنے کی شرعاً کسی کو اجاز ت نہیں کہ اس نے فخر و ریاکاری کی نیت سے مسجد تعمیر کی ہے لیکن تعمیر کرنے والے کو بہرحال اپنے قلب کی طرف نظر رکھنی چاہیے کہ اس کا مقصد کیا ہے۔

{ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ:بیشک وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے۔} اس سے مراد مسجدِ قباء ہے جس کی بنیاد رسولِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے رکھی اور جب تک حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے قبا میں قیام فرمایا اس میں نماز پڑھی ۔ مفسرین کا ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مسجدِ مدینہ مراد ہے۔ (2)

          یاد رہے کہ دونوں مسجدوں کے بارے میں حدیثیں مذکور ہیں اور ان دونوں باتوں میں کوئی تَعارُض نہیں کیونکہ آیت کا مسجدِ قبا ء کے حق میں نازل ہونا اس بات کو مُستَلْزِم نہیں ہے کہ مسجد ِمدینہ میں یہ اَوصاف نہ ہوں۔ احادیث میں مسجدِ نبوی اور مسجدِ قبا ء کے کثیر فضائل مذکور ہیں ،ان میں سے چند فضائل درج ذیل ہیں :

 مسجدِ نَبوی کے3 فضائل:

          یہاں آیت کی مناسبت سے مسجدِ نبوی کے تین فضائل ملاحظہ ہوں

(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔(3)

(2)…حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’کسی شخص کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا ایک نماز کا ثواب ہے ،اور اس کا محلے کی مسجد میں نماز پڑھنا پچیس نمازوں کا ثواب ہے اور ا س کا جامع مسجد میں نماز پڑھنا پانچ سو نمازوں کا ثواب ہے اور اس کا مسجدِ اقصیٰ میں نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں کا ثواب ہے اور اس کا میری مسجد میں نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں کا ثواب ہے اور ا س کامسجدِ حرام میں نماز پڑھنا ایک

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1صحیح ابن خزیمہ، جماع ابواب فضائل المساجد وبنائہا وتعظیمہا، باب کراہۃ التباہی فی بناء المساجد۔۔۔ الخ،  ۲/۲۸۱، الحدیث: ۱۳۲۱۔

2مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ص۴۵۵۔

3بخاری، کتاب فضائل المدینۃ، ۱۳-باب، ۱/۶۲۱، الحدیث: ۱۸۸۸۔