We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

{ وَیَاۡخُذُ الصَّدَقٰتِ:اور خود صدقے ( اپنے دستِ قدرت میں ) لیتا ہے۔} اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صدقات کو قبول کرتا اور اس پر ثواب عطا فرماتا ہے۔ (1)

اللہ تعالیٰ پاکیزہ مال سے دیا گیا صدقہ قبول فرماتا ہی

        حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص پاکیزہ مال سے صدقہ کرے اور اللہ تعالیٰ پاکیزہ مال کے سوا قبول نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول فرماتا ہے خواہ وہ ایک کھجور ہو پھر وہ صدقہ رحمن عَزَّوَجَلَّکے دستِ قدرت میں بڑھتا رہتا ہے حتّٰی کہ پہاڑ سے زیادہ ہو جاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شخص گھوڑے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے۔ (2)

        یاد رہے کہ حدیثِ پاک میں مذکور دائیں ہاتھ سے جسم والا دایاں ہاتھ مراد نہیں بلکہ یہ مُتَشابہات میں سے ہے جس کا معنی وہی ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّکی شایانِ شان ہے۔ نیز اس حدیثِ پاک میں ان لوگوں کے لئے بھی نصیحت ہے جو سود اور رشوت وغیرہ کی حرام آمدنی سے صدقات و خیرات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مال دے رہا ہے، اس لئے ہم غریبوں کی بھلائی اور رشتہ داروں سے صِلہ رحمی کرنے میں اس مال کو خرچ کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے اس حدیث پاک میں بڑی عبرت ہے ،چنانچہ حضرت قاسم بن مُخَیْمِرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جو شخص گناہ کے ذریعے مال حاصل کر کے اس سے صلہ رحمی کرتا یا صدقہ کرتا یا اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سب کو جمع کر کے جہنم میں ڈال دے گا۔ (3)

        حضرت عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’تمہیں وہ شخص تعجب میں نہ ڈالے جس نے حرام مال کمایا کیونکہ اگر وہ اس مال کو (راہِ خدا میں ) خرچ کرے یا اسے صدقہ کرے تو وہ قبول نہ کیا جائے گا اور اگر اسے چھوڑ دے تو اس میں برکت نہیں دی جائے گی اور اس میں سے کچھ بچ جائے تو یہ جہنم کی طرف ا س کا زادِ راہ ہو گا (4)۔ (5)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۲/۲۷۹۔

2مسلم، کتاب الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیّب وتربیتہا، ص۵۰۶، الحدیث: ۶۳(۱۰۱۴)۔

3ابن عساکر، موسی بن سلیمان بن موسی ابو عمرو الاموی، ۶۰/۴۰۹۔

4شعب الایمان، الثامن والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۴/۳۹۶، الحدیث: ۵۵۲۵۔

5صدقات سے متعلق احکام اور فضائل وغیرہ کی معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب’’فضائلِ صدقات‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔