We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

ہر جرم کی توبہ ایک جیسی نہیں :

         یاد رہے کہ ہر جرم کی توبہ ایک جیسی نہیں ، بلکہ مختلف جرموں کی توبہ بھی مختلف ہے جیسے اگر اللہ تعالیٰ کے حقوق تَلف کئے ہوں مثلاً نمازیں قضا کی ہوں ، رمضان کے روزے نہ رکھے ہوں ، فرض زکوٰۃ ادا نہ کی ہو، حج فرض ہونے کے بعد حج نہ کیا ہو ان سے توبہ یہ ہے کہ نماز روزے کی قضا کرے، زکوٰۃ ادا کرے ، حج کرے اور ندامت و شرمندگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی تقصیر کی معافی مانگے، اسی طرح اگر اپنے کان ،آنکھ، زبان، پیٹ، ہاتھ پاؤں ، شرمگاہ اور دیگر اَعضا سے ایسے گناہ کئے ہوں جن کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ ہو بندوں کے حقوق کے ساتھ نہ ہو جیسے غیر مَحرم عورت کی طرف دیکھنا، جنابت کی حالت میں مسجد میں بیٹھنا، قرآنِ مجید کو بے وضو ہاتھ لگانا، شراب نوشی کرنا، گانے باجے سننا وغیرہ، ان سے توبہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتے، ان گناہوں پر ندامت کااظہار کرتے اور آئندہ یہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرتے ہوئے معافی طلب کرے اور اس کے بعد کچھ نہ کچھ نیک اعمال کرے کیونکہ نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں ،اور اگر بندوں کے حقوق تلف کئے ہوں تو ان کی تین صورتیں ہیں

(1)… ان حقوق کا تعلق صرف قرض کے ساتھ ہے جیسے خریدی ہوئی چیز کی قیمت، مزدور کی اجرت یا بیوی کا مہر وغیرہ۔

(2)… ان حقوق کا تعلق صرف ظلم کے ساتھ ہے جیسے کسی کو مارا، گالی دی یا غیبت کی اور اس کی خبر ا س تک پہنچ گئی۔

(3)… ان کا تعلق قرض اور ظلم دونوں کے ساتھ ہے، جیسے کسی کا مال چرایا، چھینا، لوٹا، کسی سے رشوت لی، سود لیا یا جوئے میں مال جیتا وغیرہ۔

         پہلی صورت میں توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ ان حقوق کو ادا کرے یا صاحب ِحق سے معافی حاصل کرے۔ دوسری صورت میں توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ صرف صاحب ِحق سے معافی طلب کرے اور تیسری صورت میں توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ حقوق ادا بھی کرے اور صاحب ِحق سے معافی بھی حاصل کرے۔ اگرتوبہ کی شرائط جمع ہوں تو توبہ ضرور قبول ہوگی کیونکہ یہ رب تعالیٰ کا وعدہ ہے اوراپنے وعدے کے خلاف کرنا اللہ تعالیٰ کی شانِ کریمی کے لائق نہیں۔

        یہاں توبہ کی قبولیت سے متعلق ایک حکایت ملاحظہ ہو ،چنانچہ توبہ سے پہلے حضرت عتبہ غلام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی فتنہ انگیزی اور شراب نوشی کی داستانیں مشہور تھیں ، ایک دن آپ حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی مجلس میں آئے، اس وقت حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاس آیت ’’ اَلَمْ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخْشَعَ قُلُوۡبُہُمْ لِذِکْرِ اللہِ‘‘(1)(کیا

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1حدید:۱۶۔