We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

اس پر اگلی آیت ’’ خُذْ مِنْ اَمْوٰلِہِمْ‘‘ نازل ہوئی۔ (1)

{ عَمَلًا صٰلِحًا:ایک اچھا عمل۔} یہاں اچھے عمل سے یا قصور کا اعتراف کرلینا اور توبہ کرنامراد ہے یا اس غزوے میں حاضر نہ ہونے سے پہلے غزوات میں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ حاضر ہونا مراد ہے یا طاعت و تقویٰ کے تمام اعمال مراد ہیں ،اس صورت میں یہ آیت تمام مسلمانوں کے بارے میں ہوگی۔ آیت کے اگلے حصے میں برے عمل سے تَخَلُّفْ یعنی جہاد سے رہ جانا مراد ہے۔ (2)

{ عَسَی اللہُ اَنۡ یَّتُوۡبَ عَلَیۡہِمْ:عنقریب اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے توبہ کرنے کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کے اعتراف کو ذکر کر دیا اور گناہوں کا اعترف توبہ کی دلیل ہے۔(3)

گناہوں پر ندامت بھی توبہ ہے:

        اس سے معلوم ہوا کہ گناہوں پر شرمندہ ہونا بھی توبہ ہے بلکہ توبہ کی اہم شرط ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’شرمندگی توبہ ہے۔ (4)

        نیز گناہوں پر شرمندگی عام طور پر گناہ چھڑوا ہی دیتی ہے، اسی لئے گناہوں پر جَری اور بیباک کی مذمت زیادہ ہے۔ اِس آیت میں ہم جیسے گناہگاروں کیلئے بھی بڑی امید ہے کہ اگرچہ ہمارے گناہ بے حدوحساب ہیں لیکن اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ نیک اعمال بھی کرہی لیتے ہیں اور اگر ہمارے اعمال ناقص ہیں تو کم از کم ہمارا نفسِ ایمان تو قطعی اور یقینی طور پر درست ہے اور وہ بھی نیک عمل ہے۔

خُذْ مِنْ اَمْوٰلِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا وَصَلِّ عَلَیۡہِمْ ؕ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمْ ؕ وَاللہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۰۳

ترجمۂکنزالایمان: اے محبوب ان کے مال میں سے زکوٰۃ تحصیل کرو  جس سے تم انہیں ستھرا اور پاکیزہ کردو اور ان کے

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۲/۲۷۶-۲۷۷۔

2خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۲/۲۷۷۔

3مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ص۴۵۳۔

4ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر التوبۃ، ۴/۴۹۲، الحدیث: ۴۲۵۲۔