We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

میں بیٹھے لیکن پھر اچانک ان کے دل میں حضوراکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا خیال آ گیا۔ اپنی بیوی سے کہا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ میں تو اپنی چھپر میں ٹھنڈک اور سایہ میں آرام و چین سے بیٹھا رہوں اور خدا عَزَّوَجَلَّ کے مقدس رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاس دھوپ کی تَمازت اور شدید لو کے تھپیڑوں میں سفر کرتے ہوئے جہادکے لئے تشریف لے جا رہے ہوں ، ایک دم ان پر ایساجوشِ ایمانی سوار ہوا کہ توشہ کیلئے کھجور لے کر ایک اونٹ پر سوار ہو گئے اور تیزی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے روانہ ہو گئے۔ لشکر والوں نے دور سے ایک شُتر سوار کو دیکھا تو حضوراکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ ابوخیثمہ ہوں گے، اس طرح یہ لشکرِ اسلام میں پہنچ گئے۔ (1)

فَلْیَضْحَکُوۡا قَلِیۡلًا وَّلْیَبْکُوۡا کَثِیۡرًا ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ﴿۸۲

ترجمۂکنزالایمان: تو انہیں چاہیے کہ تھوڑا ہنسیں اور بہت روئیں بدلہ اس کا جو کماتے تھے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: تو انہیں چاہیے کہ تھوڑا سا ہنس لیں اور بہت زیادہ روئیں (یہ) ان کے اعمال کا بدلہ ہے۔

{ فَلْیَضْحَکُوۡا قَلِیۡلًا:تو انہیں چاہیے کہ تھوڑا سا ہنس لیں۔ } اس آیت میں منافقین کو تھوڑا ہنسنے اور بہت رونے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ منافقین کی حالت کی خبر دینے کے طور پر کلام کیا گیا ہے۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ منافقین اگرچہ اپنی ساری زندگی ہنسیں اور خوشیاں منائیں یہ کم ہے کیونکہ دنیا اپنی درازی کے باوجود قلیل ہے اور آخرت میں ان کا غم اور رونا بہت زیادہ ہو گا کیونکہ آخرت کی سزا ہمیشہ کے لئے ہو گی، کبھی ختم نہ ہو گی اور ختم ہو جانے والی چیز نہ ختم ہونے والی کے مقابلے میں تھوڑی ہی ہے۔ (2)

         تفسیر خازن میں ہے دنیا میں خوش ہونا اور ہنسنا چاہے کتنی ہی دراز مدت کے لئے ہو مگر وہ آخرت کے رونے کے مقابل تھوڑا ہے کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت دائم اور باقی ہے۔ آخرت کا رونا دنیا میں ہنسنے اور خبیث عمل کرنے کا بدلہ ہے۔ (3)

تھوڑا ہنسیں اور زیادہ روئیں :

         اس آیت میں اگرچہ منافقین سے متعلق کلام ہے البتہ جداگانہ طور پر ہمیں بہرحال یہی حکم دیا گیا ہے کہ تھوڑا

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1زرقانی، ثمّ غزوۃ تبوک، ۴/۸۲۔

2تفسیرکبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸۲، ۶/۱۱۴، ملخصاً۔

3خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸۲، ۲/۲۶۷۔