We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

جارہا ہے کہ غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے اس بات پر خوش ہوئے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے پیچھے بیٹھے رہے اور بہانے بنا کر غزوئہ تبوک میں نہ گئے۔

{ وَکَرِہُوۡۤا:اور انہیں یہ بات ناپسندتھی۔} اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کی برکت سے نیک اعمال پر دلیری پیدا ہوتی ہے اور کفر و نفاق کی وجہ سے کم ہمتی پیدا ہوتی ہے ۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضور اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’منافقین پرسب نمازوں میں زیادہ بھاری نماز عشا و فجر ہے اور جو ان میں فضیلت ہے، اگر جانتے تو ضرور حاضر ہوتے اگرچہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے آتے۔ (1)

نفاق کی ایک علامت:

         اِس آیت و حدیث سے سمجھ آتا ہے کہ جس کو گناہ آسان معلوم ہوں اور نیک کام بھاری محسوس ہوں اور اس وجہ سے وہ گناہ کرے اور نیکیاں نہ کرے تو اس کے دل میں نفاق کی ایک علامت موجود ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّہمیں اس سے محفوظ رکھے،اٰمین۔

{ وَقَالُوۡا لَاتَنۡفِرُوۡا فِی الْحَرِّ:اور انہوں نے کہا :اس گرمی میں نہ نکلو۔} غزوۂ تبوک کے موقعہ پر موسم بہت گرم تھا۔ اور وہ جگہ بھی بہت گرم تھی ۔ وقت اور علاقے کی گرمی جمع ہو گئی تو ان لوگوں نے ایک دوسرے سے یہ کہا :اس گرمی میں نہ نکلو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، تم فرماؤ: جہنم کی آگ شدید ترین گرم ہے۔ اگر یہ جانتے تو تھوڑی دیر کی گرمی برداشت کرلیتے اور ہمیشہ کی آگ میں جلنے سے اپنے آپ کو بچالیتے۔ (2)

حضرت ابوخیثمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا واقعہ:

         یہ تو منافقین کا حال تھا، اب یہاں حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ایک سچے عاشق کا حال سنئے۔ چنانچہ واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ حضرت ابوخیثمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ غزوۂ تبوک میں جانے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے مگر ایک دن وہ شدید گرمی میں کہیں باہر سے آئے تو ان کی بیوی نے چھپر میں چھڑ کائو کر رکھا تھا۔ تھوڑی دیر اس سایہ دار ا ور ٹھنڈی جگہ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1معجم الکبیر، ومن مسند عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، ۱۰/۹۹، الحدیث: ۱۰۰۸۲۔

2قرطبی، براء ۃ، تحت الآیۃ: ۸۱، ۴/۱۱۵، الجزء الثامن، ملخصاً۔