We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے نہ بخشے گا۔ اِس نہ بخشنے میں حضورپُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی انتہائی عظمت کا اظہار ہے کہ آپ کا منکر جنت میں نہیں جاسکتا۔ معلوم ہوا کہ کافر کو کسی کی دعائے مغفرت فائدہ نہیں دیتی، اس کی بخشش ناممکن ہے۔

{ وَاللہُ لَایَہۡدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیۡنَ:اور اللہ فاسقوں کوہدایت نہیں دیتا۔} اس سے مراد یہ ہے کہجو ایمان سے خارج ہوں ، جب تک کہ وہ کفر پر قائم رہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں ہدایت نہیں دیتا۔ (1)اور جوہدایت کاارادہ کرے ، ہدایت اسے ہی ملتی ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ جبراً کسی کو ہدایت نہیں دیتا۔

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوۡنَ بِمَقْعَدِہِمْ خِلٰفَ رَسُوۡلِ اللہِ وَکَرِہُوۡۤا اَنۡ یُّجٰہِدُوۡا بِاَمْوٰلِہِمْ وَاَنۡفُسِہِمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَقَالُوۡا لَاتَنۡفِرُوۡا فِی الْحَرِّ ؕ قُلْ نَارُ جَہَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا ؕ لَوْکَانُوۡا یَفْقَہُوۡنَ ﴿۸۱

ترجمۂکنزالایمان: پیچھے رہ جانے والے اس پر خوش ہوئے کہ وہ رسول کے پیچھے بیٹھ رہے اور انہیں گوارا نہ ہوا کہ  اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں لڑیں اور بولے اس گرمی میں نہ نکلو  تم فرماؤ جہنم کی آگ سب سے سخت گرم ہے  کسی طرح انہیں سمجھ ہوتی۔

ترجمۂکنزُالعِرفان:  پیچھے رہ جانے والے اس بات پر خوش ہوئے کہ وہ اللہ کے رسول کے پیچھے بیٹھے رہے اور انہیں یہ بات ناپسندتھی کہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کریں اور انہوں نے کہا :اس گرمی میں نہ نکلو۔ تم فرماؤ: جہنم کی آگ شدید ترین گرم ہے۔کسی طرح یہ لوگ سمجھ لیتے۔

{ فَرِحَ الْمُخَلَّفُوۡنَ:پیچھے رہ جانے والے خوش ہوئے۔} غزوۂ تبوک میں گرمی کی شدت، سفر کی دوری، زادِ راہ کی کمی اور جان کے خوف کی وجہ سے منافقین کی ایک بڑی تعداد جہاد میں ساتھ نہ گئی تھی بلکہ حیلے بہانے کرکے پیچھے رہ گئی اور یہ لوگ پیچھے رہ جانے پر بڑے خوش تھے کہ شکر ہے کہ تکلیفوں سے جان چھوٹ گئی۔ یہاں انہی لوگوں کے بارے میں فرمایا

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸۰، ص۴۴۷۔