We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

کے مردود ہونے کی وجہ سے جو ذلت ہورہی تھی وہ اس سے بچنے کیلئے واویلا کررہا تھا تو چونکہ توبہ صدقِ دل سے نہ تھی اس لئے مقبول نہ ہوئی۔

ثعلبہ کے نام سے متعلق ایک اہم وضاحت:

        یہاں ایک وضاحت کردینا مناسب ہے اور وہ یہ کہ تفسیرحدیث اور سیرت کی عام کتب میں اس شخص کا نام ’’ثعلبہ بن حاطب‘‘ لکھا ہو اہے، علامہ ابن حجر عسقلانی اور علامہ ابنِ اثیر جزری کی تحقیق یہ ہے کہ اس شخص کا نام ’’ ثعلبہ بن حاطب‘‘ درست نہیں کیونکہ ثعلبہ بن حاطب بدری صحابی ہیں اور وہ جنگ اُحد میں شہید ہو گئے تھے اور بدری صحابہ کے بارے میں قرآن و حدیث میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کی روشنی میں دیکھا جائے تو ثعلبہ بن حاطب اس آیت کا مِصداق نہیں ہو سکتے نیز جب وہ جنگ ِ احد میں شہید ہوگئے تو وہ اس کے مِصداق ہوہی نہیں سکتے کہ یہ شخص تو زمانۂ عثمانی میں مرا تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ آیت میں جس شخص کا واقعہ مذکور ہے وہ ثعلبہ بن حاطب کے علاوہ کوئی اور ہے اور تفسیر ابن مردویہ میں مذکور حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت کے مطابق وہ شخص ’’ثعلبہ بن ابو حاطب‘‘ تھا۔ علامہ محمد بن یوسف صالحی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے الاستیعاب میں اور علامہ زبیدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اتحاف میں اس تحقیق سے اتفاق کیا ہے۔ اسی طرح اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’ ’یہ شخص جس کے باب میں یہ آیت اتری ثعلبہ ابن ابی حاطب ہے اگرچہ یہ بھی قوم اَوس سے تھا اور بعض نے اس کانام بھی ثعلبہ ابن حاطب کہا۔ مگروہ بدری خود زمانۂ اقدس حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں جنگِ اُحد میں شہیدہوئے اور یہ منافق زمانۂ خلافتِ امیرالمومنین عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں مرا۔ (1)

        اور علامہ شریف الحق امجدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’صحیح یہ ہے کہ (وہ شخص) ثعلبہ بن ابی حاطب ہے جیسا کہ خازن اور اصابہ میں ہے۔ ثعلبہ بن حاطب بن عمرو صحابیٔ مخلص تھے جو بدر اور اُحد میں شریک ہوئے اور احد میں شہید ہوئے،اور یہ ثعلبہ بن ابی حاطب خلافتِ عثمانی میں مرا۔ (2)

فَاَعْقَبَہُمْ نِفَاقًا فِیۡ قُلُوۡبِہِمْ اِلٰی یَوْمِ یَلْقَوْنَہٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللہَ مَا

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1…فتاویٰ رضویہ، فوائد تفسیریہ وعلوم قرآن، ۲۶/۴۵۳-۴۵۴۔

2…فتاوی شارح بخاری، عقائد متعلقہ صحابۂ کرام، ۲/۴۳۔