We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

’’ لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَیۡنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمۡ بَعْضًا‘‘ (1)

ترجمۂکنزُالعِرفان: (اے لوگو!) رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا (معمولی) نہ بنالو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔

{ جٰہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیۡنَ:کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو۔} یعنیکافروں پر تو تلوار اور جنگ سے اور منافقوں پر حجت قائم کرنے سے جہاد کرو اور ان سب پر سختی کرو۔ حضرت عبداللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ہر وہ شخص جس کے عقیدے میں فساد ہو اس کے بارے میں بھی یہی حکم ہے کہ حجت و دلائل کے ساتھ اس سے جہاد کیا جائے اور جتنا ممکن ہو اس کے ساتھ سختی کا برتاؤ کیا جائے۔ (2)

 دین کیلئے کی جانے والی ہر کوشش جہاد ہے:

        اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جہاد صرف لڑائی کی شکل میں نہیں ہوتا بلکہ دین کیلئے کی جانے والی ہر کوشش جہاد ہے خواہ وہ زبان یا قلم سے ہو۔ یہ بھی واضح ہوا کہ جو علماء ،دینِ حق اور عقیدہ ِ صحیحہ کے تحفظ و بَقا کیلئے تقریر وتحریر کے ذریعے کوشش کرتے ہیں وہ سب مجاہدین ہیں اور اِس آیتِ مبارکہ پر عمل کرنے والے ہیں۔ اس میں مصنفین اور صحیح مقررین کیلئے بڑی بشارت و فضیلت ہے۔

دین کے دشمنوں پر سختی کرنے کا حکم:

        اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو کافروں اور منافقوں پر سختی کرنے کا حکم دیا، اس سے معلوم ہوا کہ دین و ایمان کے دشمنوں پر سختی کرنا اَخلاقیات اور اسلامی تعلیمات کے منافی نہیں اور نہ ہی یہ شدت پسندی ہے بلکہ یہ عین اسلام کی تعلیمات اوراللہ تعالیٰ کا حکم ہے البتہ بے جا کی سختی یا اسلامی تعلیمات کے منافی قتل و غارتگری ضرور حرام ہے جیسے آج کل مسلک کے نام پر ایک دوسرے کو قتل کرنے کی مہم جاری ہے۔

یَحْلِفُوۡنَ بِاللہِ مَا قَالُوۡا ؕ وَلَقَدْ قَالُوۡاکَلِمَۃَ الْکُفْرِ وَکَفَرُوۡا بَعْدَ اِسْلٰمِہِمْ وَہَمُّوۡا بِمَا لَمْ یَنَالُوۡا ۚ وَمَا نَقَمُوۡۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰہُمُ اللہُ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1النور :۶۳۔

2مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۷۳، ص۴۴۵۔