We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

مالِ غنیمت کی حِلَّت اس اُمت کی خصوصیت ہے:

        یاد رہے کہ مالِ غنیمت کا حلال ہونا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت کی خصوصیات میں سے ہے، سابقہ امتوں میں سے کسی کے لئے غنیمت کا مال حلال نہیں تھا، جیسا کہ حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ہم سے پہلے کسی کے لیے غنیمت حلال نہیں ہوئی، اللہ تعالیٰ نے ہمارا ضُعف و عِجز دیکھ کر اسے ہمارے لیے حلال کر دیا۔ (1)

         اورحضرت ابوامامہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے افضل فرمایا‘‘ یا ارشاد فرمایا ’’ میری امت کو تمام امتوں سے افضل کیا اور ہمارے لیے غنیمت حلال کی۔ (2)

 مالِ غنیمت کا حکم اوراس کی تقسیم کا طریقہ:

        مالِ غنیمت کے حکم اور ا س کی تقسیم سے متعلق چند مسائل درج ذیل ہیں۔

(1)… مالِ غنیمت میں سے خُمُسْ یعنی پانچواں خاص اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کیلئے ہے ، پانچواں حصہ نکال کرباقی چار حصے مجاہدین پر تقسیم کر دئیے جائیں گے اور مالِ فَئے مکمل طور پربیتُ المال میں رکھا جائے گا ۔ (3)  

(2)…رسولِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعد اب حضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور آپ کے اہلِ قرابت کے حصے ساقط ہو گئے۔ اب مالِ غنیمت کا جو پانچواں حصہ نکالا جائے تو اس کے تین حصے کئے جائیں گے۔ ایک حصہ یتیموں کے لئے، ایک مسکینوں اور ایک مسافروں کے لئے اوراگر یہ تینوں حصے ایک ہی قسم مثلاً یتیموں یا مسکینوں پر خرچ کردئیے جب بھی جائز ہے اور مجاہدین کو حاجت ہو تو ان پر خرچ کرنا بھی جائز ہے۔ (4)

(3)…بنی ہاشم وبنی مُطَِّلب کے یتیم اور مساکین اور مسافر اگر فقیر ہوں تو یہ لوگ دوسروں کی بہ نسبت خمس کے زیادہ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1بخاری، کتاب فرض الخمس، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: احلّت لکم الغنائم، ۲/۳۴۹، الحدیث: ۳۱۲۴، مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب تحلیل الغنائم لہذہ الامۃ خاصۃ، ص۹۵۹، الحدیث: ۳۲(۱۷۴۷)۔

2ترمذی، کتاب السیر، باب ما جاء فی الغنیمۃ، ۳/۱۹۶، الحدیث: ۱۵۵۸۔

3در مختار مع ردّ المحتار، کتاب الجھاد، باب المغنم وقسمتہ، ۶/۲۱۸-۲۱۹ملتقطاً۔

4مدارک، الانفال، تحت الآیۃ: ۴۱، ص۴۱۳، درّ مختار مع ردّ المحتار، کتاب الجہاد، باب المغنم وقسمتہ، فصل فی کیفیۃ القسمۃ، ۶/۲۳۷۔