We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

سورہِ توبہ کی آیت نمبر66 سے معلوم ہونے والا ایک اہم مسئلہ:

        اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس شخص نے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں اِکراہ ِشرعی کے بغیر ایسے کلمات کہے جو عرف میں توہین اور گستاخی کے لئے متعین ہوں تو وہ نیت اور عدمِ نیت کے فرق کے بغیر قضاء ً اور دیانۃً دونوں طرح کافر ہے ۔

        اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس (مذکورہ بالا) آیت کے تین فائدے حاصل ہوئے:

        اول: یہ کہ جو رسول کی شان میں گستاخی کرے وہ کافر ہوجاتاہے اگر چہ کیسا ہی کلمہ پڑھتا اور ایمان کا دعویٰ رکھتا ہو، کلمہ گوئی اسے ہرگز کفرسے نہ بچائے گی۔

        دوم: یہ جو بعض جاہل کہنے لگتے ہیں کہ کفر کا تودل سے تعلق ہے نہ کہ زبان سے، جب وہ کلمہ پڑھتا ہے اور اس کے دل میں کفر ہونا معلوم نہیں توہم کسی بات کے سبب اسے کیونکر کافر کہیں ، محض خبط اور نری جھوٹی بات ہے، جس طرح کفر دل سے متعلق ہے یونہی ایمان (کا) بھی (دل سے تعلق ہے تو) زبان سے کلمہ پڑھنے پر (اسے) مسلمان کیسے کہا؟ (تو جس طرح زبان سے کلمہ پڑھنے پر اسے مسلمان کہا) یونہی زبان سے گستاخی کرنے پر کافر کہا جائے گا، اور جب (اس کا گستاخی کرنا) بغیر اکراہِ شرعی کے ہے تو اللہ کے نزدیک بھی کافر ہوجائے گا اگر چہ دل میں اس گستاخی کا معتقد نہ ہو کہ بے اعتقاد (گستاخانہ کلمہ) کہنا ہزل وسُخْرِیَہْ ہے، اور اسی پر ربُّ العزت فرما چکا کہ تم کافر ہوگئے اپنے ایمان کے بعد۔

        سوم :کھلے ہوئے لفظوں میں عذر تاویل مسموع نہیں ، آیت فرما چکی کہ حیلہ نہ گھڑو تم کافر ہوگئے۔ (1)

        ایک اور مقام پر فرماتے ہیں ’’جو بلا اکراہ کلمۂ کفر بکے بلا فرقِ نیت مطلقاً قطعا ًیقینا اجماعاً کافر ہے ۔پھر اس پر فقہائے کرام کے جزئیات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : فتاویٰ امام قاضی خاں وفتاویٰ عالمگیری میں ہے ’’رجل کفر بلسانہ طائعا وقلبہ مطمئن بالایمان یکون کافرا و لایکون عند اﷲ تعالٰی مومنا ‘‘ ایک شخص نے زبان سے حالت ِخوشی میں کفر کا اظہار کیا حالانکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن تھا تو وہ کافر ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مومن نہیں ہے۔ (2)

        حاوی میں ہے ’’من کفر باللسان و قلبہ مطمئن بالایمان فھوکافر و لیس بمومن عند

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1…فتاوی رضویہ، ۱۵/۱۷۲۔

2فتاوی عالمگیری،کتاب السیر، الباب التاسع فی احکام المرتدین، ۲/۲۸۳۔