We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

ہے تو اس نے ان میں سستی پیدا کردی اور کہہ دیا گیا: تم بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔

{ وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوۡجَ:اور اگر ان کا نکلنے کا ارادہ ہوتا۔} یعنی منافق ظاہر تو یہ کرتے ہیں کہ ہم غزوۂ تبوک میں جانے کو تیار تھے لیکن اچانک بیماری، لاچاری یا کسی مجبوری کی وجہ سے رک گئے ۔یہ جھوٹے ہیں کیونکہ انہوں نے سفرِ جہاد کی پہلے سے کوئی تیاری ہی نہیں کی، اگر ان کا جہاد میں جانے کا ارادہ ہوتا تو کچھ تیاری تو کرتے۔

بہت سی چیزوں کا اعتبار قَرائن سے بھی ہوتا ہے:

        اللہ عَزَّوَجَلَّ کا علم تو یقینا قطعی ہے لیکن ہمارے لئے اس میں ایک نکتہ ہے کہ بہت سی چیزوں کا اعتبار قرائن سے بھی کیا جاتا ہے جیسے یہاں منافقین کا جہاد کیلئے کوئی تیاری نہ کرنا اس بات کا قرینہ ہے کہ انہوں نے جہاد کا ارادہ ہی نہیں کیا تھا۔

{ وَقِیۡلَ اقْعُدُوۡا مَعَ الْقٰعِدِیۡنَ:اور کہہ دیا گیا: تم بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔} اس کا معنی یہ ہے کہ جب منافقین نے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے جہاد میں شریک نہ ہونے کی اجازت طلب کی تو ان سے کہہ دیا گیا کہ تم بیٹھے رہنے والوں یعنی عورتوں ،بچوں ، مریضوں اور معذوروں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ (1)

لَوْ خَرَجُوۡا فِیۡکُمۡ مَّا زَادُوۡکُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّلَا۠ اَوْضَعُوۡا خِلٰلَکُمْ یَبْغُوۡنَکُمُ الْفِتْنَۃَ ۚ وَفِیۡکُمْ سَمّٰعُوۡنَ لَہُمْ ؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۷

ترجمۂکنزالایمان: اگر وہ تم میں نکلتے تو ان سے سوا نقصان کے تمہیں کچھ نہ بڑھتا اور تم میں فتنہ ڈالنے کو تمہارے بیچ میں غرابیں دوڑاتے اور تم میں ان کے جاسوس موجود ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو یہ تمہارے نقصان میں اضافہ ہی کرتے اور تمہارے درمیان فتنہ انگیزی کرنے کے لئے دوڑتے پھرتے اور تمہارے اندر ان کے جاسوس موجود ہیں اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

{ لَوْ خَرَجُوۡا فِیۡکُمۡ مَّا زَادُوۡکُمْ اِلَّا خَبَالًا:اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو یہ تمہارے نقصان میں اضافہ ہی کرتے۔}

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۴۶، ۲/۲۴۷۔