Book Name:Ilm o Ulama ki Shan

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

علم و علما کی شان[1]

درود شریف کی فضیلت

مشہور محدث حضرت سَیِّدُنا سُفیان بن عُـیَـیْـنَـه رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ فرماتے ہیں : میں نے اپنے ایک دوست کوانتقال کے بعد خواب میں دیکھ کر پوچھا : اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا برتاؤ کیا؟ اس نے جواب دیا : مجھے بخش دیاگیا ۔ میں نے کہا : کس وجہ سے ؟اُس نے کہا : میں حدیث لکھا کرتا تھااور جب بھی نبی اکرم، نور مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نام آتا تو طلب ثواب کی خاطر ”صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّم“لکھ دیا کرتا تھا اسی وجہ سے بخش دیا گیا ۔ ([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!          صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دین دار عورت کی اہمیت

کوفہ کے  ایک عظیم بُزرگ حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سُفۡیَان بِنۡ عُیَیۡنَہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تعالٰی علیہ سے ایک شخص نے اپنی زوجہ کے مُتَعَلّق عرض کی : اے ابومحمد! میری بیوی ہر وقت میری بے عزّتی کے درپے رہتی ہے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ سر جھکاکر کچھ سوچنے لگے پھر بولے : کیاتو نے اس سے نکاح اس لئے کیا تھا کہ تیری عزّت میں اضافہ ہو؟ اس نے اثبات میں جواب دیا تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے ارشاد فرمایا : (نکاح کے ذریعے ) جو شخص حُصولِ عزّت چاہتا ہے اسے ذِلّت میں مبتلا کر دیا جاتا ہے ، جوشخص حُصُولِ مال کا خُواہش مند ہو اُسے فقر میں مبتلا کردیا جاتا ہے اور جو شخص دین کا ارادہ رکھتا ہواللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کے لیے دین کے ساتھ ساتھ عزت اور مال بھی جمع فرمادیتا ہے ۔ ([3])  پھرآپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ اپنی آپ بیتی بیان کرتے ہوئے فرمانے لگے : ہم چار بھائی تھے ، محمد ، عمران ابراہیم اور میں خود ۔ محمد نے جب شادی کا ارادہ کیا تو حسب ونسب میں رغبت کے سبب اُس نے ایسی عورت سے شادی کی جو خاندان میں اس سے بڑھ کر تھی تواللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس کو ذِلّت میں مبتلا کردیا ۔ عمران نے مال کی رغبت میں ایسی عورت کا اِنْتِخاب کیا جو اس سے زیادہ مالدار تھی تواللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اسے فقر و تنگدستی میں مبتلا کردیا ۔ میں ان دونوں کے معاملے میں حیران و پریشان ہو کر رہ گیا ۔ میرے پاس معمر بن راشد رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ تشریف لائے تو میں نے انہیں اپنے بھائیوں کا قصہ بیان کیا اور ان سے اس کے بارے میں مشورہ لیا تو انہوں نے مجھے حضرتِ سَیّدُنایحییٰ بن جعدہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ اور اُمُّ المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے مروی احادیث بیان کیں ۔ حضرتِ سَیّدُنا یحییٰ بن جعدہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ سے روایت ہے کہ نبی پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : چار وجوہات کی بنا پر عورت سے شادی کی جاتی ہے ۔ دین، حسب نسب، مال اورخوبصورتی لیکن تم دین والی عورت کو ترجیح دینا ۔ ([4])  حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ برکت نشان ہے : برکت کے اعتبار سے سب سے عظیم عورت وہ ہے جِس (سے نکاح ) میں بوجھ کم ہو ۔ ([5])

 حضرتِ سُفۡیَان بِنۡ عُیَیۡنَہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ فرماتے ہیں : میں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حدیث پر عمل کرنے کی غرض سے اپنے لیے دین اور بوجھ کی کمی کو اختیار کیا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے  دین کے ساتھ ساتھ میرے لیے عزّت و مال بھی جمع کردیا ۔ ([6])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!       صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غور کیجئے ! نکاح جوکہ انسانی زندگی کے معاملات میں سے ایک اہم ترین معاملہ ہونے کے علاوہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مبارک سُنت بھی ہے اس کے لئے حدیثِ پاک میں دین والی عورت کو ترجیح دینے کا حکم ارشاد ہوا لہٰذا شادی اور اس کے بعد کے معاملات میں شادمانیوں اور کامیابیوں کے حُصُول کے لئے قرآن و حدیث پرعمل کرنااور دین کے معاملے کو فوقیت دینا ہی مُفید ہے جیساکہ حضرتِ سَیّدُنا سُفۡیَان بِنۡ عُیَیۡنَہرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے دونوں حدیثوں کو پیش نظر رکھا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اُنہیں دین کے ساتھ ساتھ عزّت اور مال بھی عطا فرما دیا ۔

بدقسمتی سے آج کل ہمارے معاشرے کااچھا خاصا طبقہ دین سے تعلق رکھنے والی اسلامی بہنوں یا اسلامی بھائیوں کو پسند نہیں کرتا ۔ اے کاش!ہم سب مل کر ایک ایسا معاشرہ بنانے میں کامیاب ہوجائیں جس میں والدین اپنے لڑکے کی شادی کے لیے عِلْمِ دین سے آراستہ اور دین کے معاملے میں مُعاون لڑکی ہی کے انتخاب کو مطمحِ نظر(مقصدِ اصلی) بنائیں، نیکی، پرہیزگاری اور



[1]    مبلغ دعوتِ اسلامی و نگران مرکزی مجلسِ شوریٰ حضرت مولانا حاجی ابو حامد محمد عمران عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی نے یہ بیان یکم ذو الحجۃ الحرام ۱۴۳۳؁ ھ بمطابق 17 اکتوبر 1212؁ ء کو جامعۃ المدینہ للبنات سے سند فراغت حاصل کرنے والی اسلامی بہنوں کی ردا پوشی کے موقع پر دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، بابُ المدینہ(کراچی) میں فرمایا ۔ ضروری ترمیم و اضافے کے بعدیکم رمضان المبارک ۱۴۳۴؁ ھ بمطابق 11 جولائی 2013؁   ء کو تحریری صورت میں پیش کیا جارہا ہے ۔ (شعبہ رسائل دعوتِ اسلامی مجلس المدینۃ العلمیہ)

[2]    القول البدیع، الصلاة علیه عند كتابة اسمه الشريف، ص۴۶۳

[3]    حلیة الاولیاء، سفیان بن عیینة ، ۷/ ۳۴۰

[4]    جمع الجوامع، حرف التاء المثناة، ۴/ ۱۱۷، حدیث : ۱۰۶۳۴

[5]    مسند امام احمد، مسند السیدةعائشة، ۹/ ۴۷۸، حدیث : ۲۵۱۷۳

[6]    حلیة الاولیاء، سفیان بن عیینة، ۷/ ۳۴۰



Total Pages: 12

Go To