Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

ابوطالِب کا خطبہ

سرکارِ نامدار، مکے مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے  ساتھ حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے عَقْدِ نِکاح کے اس مُبارَک موقع پر ابوطالِب نے ایک بلیغ خطبہ پڑھا جس کا مضمون یہ ہے:  ”سب تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے جس نے ہمیں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام  کے فرزند حضرتِ اسمٰعیل عَلَیْہِ السَّلَام  کی نسل سے بنایا، ہمیں مَعَدّ و مُضَر کی لڑی سے پیدا فرمایا، اپنے گھر کعبہ کا مُحافِظ اور حَرَم شریف کا متولی بنایا، ہمارے لئے ایسا گھر بنایا جس کا حج کیا جاتا ہے، ایسا حَرَم بنایا جس میں آنے والا امان میں رہتا ہے اور ہمیں لوگوں پر حاکم بنایا ۔ یقیناً میرا یہ بھتیجا مُحَمَّد بِن عَبْدُ اللہ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ایسا جوان ہے کہ کوئی مَرد اِس کے ہم پلہ نہیں، یہ سب پر بھاری ہے، مال میں اگرچہ کم ہے لیکن مال ڈھلتی چھاؤں ہے جو ایک سے دوسرے کے پاس منتقل ہوتا رہتا ہے جبکہ میرا بھتیجا ان اعلیٰ نسب لوگوں میں سے ہے جن کی قرابت داری تم جانتے ہو۔ اس نے خدیجہ بنتِ خُوَیْلِد کو نِکاح کا پیغام دیا ہے اور میرے مال میں سے اتنا اتنا مال نقد اور اُدھار بطورِ  مہر دیا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اس کے بعد میرے اس بھتیجے کے لئے بہت بڑی خبر اور بہت بزرگی والا مُعَاملہ ہے۔“ ([1])

وَرَقَہ بن نَوْفَل کا خطبہ

ابو طالِب کے خطبہ مکمل کر لینے کے بعد حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے چچا زاد بھائی وَرَقَہ بن نَوْفَل نے بھی خطبہ پڑھا، انہوں نے کہا:  ”سب تعریفیں اس خُدائے بزرگ وبرتر کے لئے ہیں جس نے ہمیں ایسا بنایا جیسا کہ ابوطالِب بیان کر چکے ہیں اور ہمیں وہ فضیلت بخشی جس کا اُنہوں نے ذکر کیا۔ چونکہ ہم تمام اہل عرب کے سردار اور ان کے پیشوا ہیں اور تم سب بھی ان تمام فضیلتوں کے اہل اور جامِع ہو کہ کوئی گروہ تمہاری فضیلت کا انکار نہیں کر سکتا اور کوئی ایک شخص بھی تمہارے فخر وشرف کو ردّ نہیں کر سکتا اس لئے ہماری خواہش ہے کہ تمہارے ساتھ عَقْدِ نِکاح کے ذریعہ اِتِّصال ویگانگت (یعنی قریب کی رشتہ داری) ہو جائے۔ اے گروہِ قریش! گواہ ہو جاؤ کہ میں نے 400 دینار مہر کے عِوَض خدیجہ بنتِ خُوَیْلِد (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا) کو مُحَمَّد بِن عَبْدُ اللہ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی زوجیت میں دیا۔

حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَاکے چچا عمرو بن اسد کا خطبہ

جب وَرَقہ بن نوفل کا خطبہ ختم ہو چکا تو ابوطالِب نے کہا:  اے وَرَقہ! میں چاہتا ہوں کہ خدیجہ کے چچا عمرو بن اسد بھی خطبے میں شریک ہوں، چنانچہ پھر عمرو بن اسد نے خطبہ دیتے ہوئے کہا:  اے گروہِ قُرَیش! گواہ ہو جاؤ کہ میں نے اپنی بھتیجی خدیجہ بنتِ خُوَیْلد کو مُحَمَّد بن عَبْدُ اللہ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی زوجیت میں دیا۔ ([2])

بَرات کا کھانا

نِکاح کے بعد حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے حُضُورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے عَرْض کیا:  اپنے چچا سے فرمائیے کہ اُونٹوں میں سے ایک اُونٹ ذَبْح کر کے لوگوں کو کھانا کِھلائیں۔ اس کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائیے اور اپنی اہلیہ سے باتیں کیجئے۔ چنانچہ لوگوں کو کھانا کِھلانے کے بعد رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے اور



[1]    المواهب اللدنية، المقصد الاول، ذكر حضانته صلى الله عليه وسلم، ۱ / ۱۰۱.

[2]    شرح الزرقانى على المواهب، المقصد الاول، باب تزوجه صلى الله عليه وسلم خديجة، ۱ / ۳۷۷



Total Pages: 39

Go To