Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

ہوا کہ  اگر اُس یہودی نے سچ کہا تھا تو وہ یہی شخص ہو سکتے ہیں۔ ([1])

حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی جانب سے نِکاح کی پیشکش

چنانچہ سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیغمبرانہ اَخلاق و عادات سے متاثر ہو کرحضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اپنی سہیلی نفیسہ بنتِ منیہ کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا معلوم کرنے کے لئے بھیجا، وہ فرماتی ہیں کہ میں نے حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس حاضِر ہو کر عَرْض کیا:  اے مُحَمَّد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کو شادی سے کس بات نے روکا ہوا ہے؟  فرمایا:  میرے پاس کوئی مال نہیں جس کے ذریعے میں شادی کر سکوں۔ میں نے کہا:   اگر مال کی طرف سے آپ کو بے پرواہ کر دیا جائے اور پھر حسین وجمیل، مال دار اور مُعَزّز عورت سے نِکاح کی دعوت دی جائے جو حسب ونسب کے اعتبار سے آپ کی کفو§ ہو تو کیا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِسے قبول نہیں فرما لیں گے؟  رسولِ مُکَرَّم، شَفیعِ مُعَظَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا:  وہ کون ہیں؟  میں نے کہا:  خدیجہ بنتِ خُوَیْلِد۔ اس پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:  میرے لئے یہ کیونکر ممکن ہے؟  میں نے کہا:  اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔ فرمایا:  (اگر یہ بات ہے) تو پھر میں تیار ہوں۔ ([2])

تقریبِ نِکاح اور اس كی تاریخ

حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رِضا معلوم کرنے کے بعد نفیسہ بنتِ منیہ، حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس آئیں اور کہنے لگیں:  مُبارَک ہو! محمدِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ کی خواستگاری فرماتے ہیں، اس پر حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بہت خوش ہوئیں اور اِظہارِ مَسَرَّت کیا۔ پھر کسی کو اپنے چچا عمرو بن اسد کے پاس بھیجا کہ بوقتِ عَقْد وہ بھی موجود ہوں۔ اِدھر حُضُورِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی ابوطالِب، حضرتِ حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ اور بعض دیگر چچاؤں کے ساتھ اور حضرتِ ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ اور قبیلہ مُضَر کے دیگر رؤسا کے ساتھ حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے مکان پر تشریف لائے اور نِکاح فرمایا۔ نِکاح کی یہ پُرسعید تقریبِ سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سفرِ شام سے واپسی کے  دو۲ ماہ 25 دن بعد مُنْعَقِد ہوئی۔ ([3]) اور سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت میں آکر قیامت تک کے تمام مؤمنین کی ماں یعنی اُمُّ المؤمنین ہونے کا شرف حاصِل کیا۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب!                 صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



[1]    سبل  الهدى و الرشاد، جماع ابواب بعض الامور .الخ، الباب الرابع عشر، ۲/ ۲۲۲. والوفاء باحوال المصطفي، الباب الرابع فى بيان ذكره فى التوراة   الخ،۱ / ۵۶.

§ کفو کے لغوی معنی مُمَاثَلَت اور برابری کے ہیں۔ ملک العلما حضرتِ علّامہ محمد ظفر الدین بہاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”محاورۂ عام (یعنی عام بول چال) میں فقط ہم قوم کو کفو کہتے ہیں اور شرعاً وہ کفو ہے کہ نسب یا مذہب یا پیشے یا چال چلن یا کسی بات میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نِکاح ہونا اولیاءِ زن (یعنی عورت کے باپ دادا وغیرہ) کے لئے عرفاً باعِثِ ننگ وعار (شرمندگی وبدنامی کا سبب) ہو۔ [فتاویٰ ملک العلما، کتاب النکاح، ص۲۰۶]

نوٹ: کفو کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے بہارِ شریعت، جلد دُوُم، حصہ سات۷، صفحہ 53 تا 57 اور پردے کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 361 تا 384 کا مُطَالعہ فرمائیے۔

[2]    الطبقات الکبریٰ، ذكر تزويج رسول الله صلی الله عليه وسلم   الخ، ۱ / ۱۰۵.

[3]    مدارج النبوۃ، باب دوم در كفالت عبد المطلب    الخ، ۲ / ۲۷. والمواهب اللدنية، المقصد الاول، ذكر حضانته صلى الله عليه وسلم، ۱ / ۱۰۱.



Total Pages: 39

Go To