Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

عَنۡہَا نے درخواست کی کہ جلدی سے اس کی طرف جائیے تا کہ وہ آنے میں جلدی کرے۔

پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کی درخواست قبول فرما ئی اور جانور پر سوار ہو کر تشریف لے گئے۔ حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بالاخانہ پر چڑھ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھنے لگی۔ اور دوبارہ فِرِشتوں کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سایہ فگن دیکھ کر یقین کر لیا کہ وہ آپ ہی کے لئے سایہ کئے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد میسرہ نے آ کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو اپنے مُشَاہَدات بتائے، عیسائی راہب نَسْطُورا اور اس شخص سے بات چیت کے بارے میں بھی بتایا جس کے ساتھ خرید وفروخت کے دوران آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اِخْتِلاف ہو گیا تھا۔جب حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے تجارت میں پچھلے برسوں کی نسبت بہت زیادہ نفع دیکھا تو طے شدہ مقدار سے بھی دُگنا مال آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں پیش کر دیا۔ ([1])

وَرَقہ بن نوفل سے تذکرہ

وَرَقہ بن نوفل، حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے چچا زاد بھائی تھے، انہوں نے دین عیسائیت اختیار کر لیا تھا، آسمانی کُتُب کا مُطالَعَہ بھی کیا ہوا تھا اور ایک بڑے عالم تھے۔ حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے فِرِشتوں کا حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سایہ کرنا اور نَسْطُورا  راہِب اور دیگر واقعات کا تذکِرہ جب وَرَقہ بن نوفل سے کیا تو وہ کہنے لگے: ”لَئِنْ کَانَ ھٰذَا حَقًّا یَا خَدِیْجَۃُ اِنَّ مُحَمَّدًا لَنَبِیُّ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ قَدْ عَرَفْتُ اَنَّہٗ کَائِنٌ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ نَبِیٌّ یُنْتَظَرُ ھٰذَا زَمَانُہٗ  یعنی اے خدیجہ! اگر یہ سچ ہے تو بے شک مُحَمَّد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِس اُمَّت کے نبی ہیں، میں پہچان گیا ہے ہوں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس اُمَّت کے وہی نبی  ہیں جن کا انتظار کیا جا رہا تھا، یہ آپ کا ہی زمانہ ہے۔“ ([2])

رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ  نِکاح کا سبب

پیاری پیاری اسلامی بہنو! محبوبِ خدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ حضرت سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے نِکاح کا ایک سبب تو یہی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سفرِ شام ہوا کہ جب حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے میسرہ کی زبانی پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیغمبرانہ اوصاف سماعت کئے اور خود بھی فِرِشتوں کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سایہ کئے دیکھا تو یہ باتیں ان کے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم كے ساتھ نِکاح کرنے میں رغبت کا باعِث بنیں۔ نیز یہ بھی مروی ہے کہ خواتین قریش کی ایک عید ہوا کرتی تھی جس میں وہ بَیْتُ اللہ شریف میں جمع ہوتیں۔ ایک دن اسی سلسلے میں وہ یہاں جمع تھیں کہ ملکِ شام کا ایک یہودی یا عیسائی شخص آیا اور انہیں پکار کر کہا:  اے گروہِ قُرَیش کی عورتو! عنقریب تم میں ایک نبی ظاہِر ہو گا جسے احمد کہا جائے گا،تم میں سے جو عورت بھی ان کی زَوْجہ بننے کا شرف حاصل کر سکتی ہو وہ ایسا ضرور کرے ۔یہ سن کر عورتوں نے اسے پتھر وکنکر مارے، بہت بُرا بھلا کہا اور نہایت سخت کلامی کی لیکن حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے خاموشی اختیار فرمائی اور اس بات سے منہ نہیں موڑا جس سے دیگر عورتوں نے منہ موڑ لیا تھا بلکہ اسے اپنے ذِہْن میں محفوظ کر لیا۔ اس کے بعد جب میسرہ نے آپ کو وہ نِشانیاں بتائیں جو اُنہوں نے دیکھی تھیں اور خود آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے بھی جو کچھ دیکھا تھا، اس کی وجہ سے آپ کے ذِہْن میں یہ خیال پیدا



[1]    سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب بعض الامور الخ، الباب الثالث، ۲ / ۲۱۶، بتقدم وتأخر.

[2]    السیرة النبوية لابن اسحاق، حديث بنيان الكعبة، ۱ / ۱۶۱.



Total Pages: 39

Go To