Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

گزشتہ سالوں سے بڑھ کر نفع

اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پیارے محبوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صدقے اس تجارت میں اس قدر برکت اور نفع عطا فرمایا کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا چنانچہ اتنا کثیر نفع دیکھ کر حضرت سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے غلام میسرہ نے کہا:  اے مُحَمَّد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں نے اتنا زیادہ نفع کبھی نہیں دیکھا جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بدولت ہوا ہے۔ ([1])

میسرہ کے دل میں حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت

خرید وفروخت سے فارِغ ہو کر قافلے والوں نے واپسی کے لئے سفر شروع کر دیا۔ اَثنائے راہ  میسرہ نے دیکھا کہ جب دوپہر ہوتی اور گرمی شدید ہو جاتی تو دو۲ فِرِشتے سورج سے بچاؤ کے لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سایہ فگن ہو جاتے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میسرہ کے دل میں رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت ڈال دی تھی لہٰذا وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رُوبرو ایسے ہوتے کہ گویا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غلام ہیں۔

رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مکہ آمد

واپسی پر جب قافلہ مَرَّ الظَّہْرَان§کے مقام  پر پہنچا تو میسرہ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عَرْض کیا:  ایسا ممکن ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس مجھ سے پہلے پہنچ جائیں اور انہیں تجارت میں ہونے والے نفع کی خوش خبری سنائیں؟  شاہِ آدم وبنی آدم، رسولِ محتشم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میسرہ کی یہ درخواست قبول فرمائی اور سرخ رنگ کے ایک جوان اُونٹ پر سوار ہو کر آگے بڑھ گئے۔ نِصْفُ النَّہار (دوپہر) کے وَقْت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مکہ مُعَظَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا میں داخِل ہوئے۔ اِس وَقْت حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اپنے مکان کے بالاخانے میں تھیں اور ان کے ساتھ چند عورتیں تھیں جن میں حضرت نفیسہ بنتِ منیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بھی تھیں۔ حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مکہ میں داخِل ہوتے وَقْت دیکھا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے اُونٹ پر سوار تھے اور دو فِرِشتے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سایہ کئے ہوئے تھے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی ساتھی عورتوں نے اِسے دیکھ کر تَعَجُّب کیا۔ ([2])

واقعے کی تصدیق

جب رسولِ خدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، حضرتِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس پہنچے اور اِنہیں تجارت میں ہونے والے نفع کے بارے میں بتایا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اس پر بہت خوش ہوئیں۔ اور آپ نے فِرِشتوں کو جو حُضُورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سایہ فگن دیکھا تھا اس کی تصدیق کرنی چاہی کہ آیا وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے ہی تھے یا کسی اور کے لئے؟  چنانچہ اس کی تدبیر آپ نے یہ کی کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے میسرہ کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں ہے؟  رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اِرشاد فرمایا:  میں اسے کُھلے جنگل میں پیچھے چھوڑ آیا ہوں۔ حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی



[1]    شرف المصطفٰى، جامع ابواب ظهوره   الخ، فصل ذكر ابتداء قصته  صلى الله عليه وسلم مع خديجة رضى الله عنها واسلامها، ۱ / ۴۱۰، ملتقطاً.

§ یہ مکہ و مدینہ زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً  کے درمیان ایک وادی ہے۔ اس کا عام نام  بطنِ مَرْوْ ہے۔[سبل الهدی و الرشاد، جماع ابواب بعض الامور   الخ، الباب الثالث عشر، ۱ / ۲۲۰]

[2]    سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب بعض الامور   الخ، الباب الثالث ، ۲ / ۲۱۶، ملتقطاً.



Total Pages: 39

Go To