Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

حُضُور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تجارت کی پیشکش

حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ابوطالب کے درمیان ہونے والی بات چیت پہنچ گئی۔ اس سے پہلے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو رسولِ امین، صاحبِ قرآنِ مُبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی راست گوئی، عظیم امانتداری اور مَحاسِنِ اَخلاق کے بارے میں معلوم ہو چکا تھا (اور اسی باعِث آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مالِ تجارت کے ساتھ روانہ بھی کرنا چاہتی تھیں) لیکن پھر فرماتیں:  پتا نہیں، حُضُور اس کا ارادہ  رکھتے بھی ہیں کہ نہیں؟  (جب ابوطالِب اور حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے درمیان ہونے والی بات چیت سے اُنہوں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آمادگی کا اِظہار دیکھا تو) پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بُلا بھیجا اور عَرْض کیا:  ”اِنَّهٗ قَدْ دَعَانِیْ اِلَی الْبَعْثَةِ اِلَيْكَ مَا بَلَغَنِیْ مِنْ حَدِيْثِكَ وَ عِظَمِ اَمَانَتِكَ وَكَرَمِ اَخْلَاقِكَ وَ اَنَا اُعْطِیْكَ ضِعْفَ مَا اُعْطِیْ رَجُلاً مِّنْ قَوْمِكَ آپ کو بُلا بھیجنے کی وجہ صرف وہ بات ہے جو مجھے آپ کی سچائی، امانت داری اور مَحاسِنِ اَخلاق کے بارے میں پہنچی ہے، اگر آپ میرے مال کو تجارت کے لئے لے جانے کی پیشکش قبول فرما لیں تو میں آپ کو اس کی نسبت دگنا مُعاوَضہ دوں گی جو آپ کی قوم کے دوسرے لوگوں کو دیتی ہوں۔“

رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے قبول فرما لیا۔ جب اپنے چچا ابوطالِب سے اس کا ذِکْر کیا تو وہ کہنے لگے:  ”اِنَّ ھٰذَا لَرِزْقٌ سَاقَہُ اللہُ اِلَیْکَ بے شک یہ رِزْق ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ  کو عطا فرمایا ہے۔“ ([1])

سفر پر روانگی

حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اپنے غلام میسرہ کو حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ کر دیا تھا اور یہ تاکید کی کہ کسی بات میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نافرمانی نہ کرے اور نہ  آپ کی رائے سے اِخْتِلاف کرے۔ روانگی سے پہلے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچاؤں نے قافلے والوں کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر شفقت کرنے کا کہا۔بوقتِ روانگی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بادل نے سایہ کیا ہوا تھا۔ ([2])

ملکِ شام آمد اور عیسائی راہِب کا کلام

سیِّدُ الْاَنبیا، محبوبِ کِبْرِیَا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور میسرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سفر کرتے کرتے جب شام پہنچے تو یہاں انہوں نے بُصْریٰ کے بازار میں ایک درخت کے  سائے تلے پڑاؤ کیا اس کے قریب ہی ایک عیسائی راہِب نَسْطُورا کی عِبادت گاہ واقع تھی، راہِب چونکہ میسرہ کو پہلے سے ہی جانتے تھے چنانچہ جب اُنہوں نے میسرہ کو دیکھا تو کہنے لگے:  ”یَامَیْسَرَۃُ! مَنْ ھٰذَا الَّذِیْ نَـزَ لَ تَحْتَ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ؟  اے میسرہ! یہ اس درخت کے نیچے پڑاؤ کرنے والے شخص کون ہیں؟ “ میسرہ نے کہا:  حَرَم والوں میں سے قریش کے ہی ایک فرد ہیں۔ راہِب نے کہا:  اس درخت کے سائے میں نبی کے سِوا کوئی نہیں ٹھہرا۔ پھر پوچھا:  ”فِیْ عَیْنَیْہِ حُمْرَۃٌ؟   اِن کی آنکھوں میں سرخی ہے؟ “ میسرہ نے کہا:  ہاں، ہے  اور وہ کبھی ختم نہیں ہوتی۔اس پر راہِب کہنے لگا:  ”ھُوَ ھُوَ اٰخِرُ الْاَنْبِیَآءِ یَا لَیْتَ اَنِّیْ اُدْرِکُہٗ حِیْنَ  یُؤْمَرُ بِالْخُرُوْجِ  یہی ہیں، یہی آخری نبی ہیں، اے کاش! میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اُس وَقْت پا سکوں جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ

 



[1]    المرجع السابق، ملتقطاً.

[2]    سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب بعض الامورالخ، الباب الثالث ، ۲ / ۲۱۵، بتقدم وتأخر.



Total Pages: 39

Go To