Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

تَعَالٰی عَنۡہَا سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ شعبان المعظم، نو۹ ہجری میں انتقال فرمایا اور رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ ([1])

حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا

آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ایک قول کے مُطَابق سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سب سے چھوٹی شہزادی ہیں، رمضان المبارک دو۲ ہجری میں حضرت علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْـکَرِیْم سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا نِکاح ہوا اور ماہِ ذوالحجۃ الحرام میں رخصتی ہوئی، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ہاں تین صاحبزادگان حضرتِ حسن، حضرتِ حسین، حضرتِ محسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُم اور تین صاحبزادیوں حضرتِ زینب، حضرتِ اُمِّ کلثوم اور حضرتِ رقیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کی وِلادت ہوئی۔ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دنیائے ظاہِر سے پردہ فرمانے کے چھ۶ ماہ بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا بھی انتقال ہو گیا۔ ([2]) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے فضائل آسمان کے تاروں، ریت کے ذروں اور پانی کے قطروں کی طرح بےشمار ہیں، بخاری شریف کی حدیث ہے کہ سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ”اِنَّ فَاطِمَۃَ بَضْعَۃٌ مِّنِّیْ وَاِنِّیْ اَکْرَہُ اَنْ یَّسُوْءَھَا بےشک فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے، مجھے یہ بات پسند نہیں کہ اسے کوئی تکلیف پہنچے۔ ([3])

؏   نبی کی لاڈلی، بیوی ولی کی، ماں شہیدوں کی

یہاں  جلوہ  نبوت  کا  ولایت  کا  شہادت  کا ([4])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب!                 صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

قابِلِ رَشْک موت

پیاری پیاری اسلامی بہنو! فُیُوضِ صحابہ وصحابیات وغیرہ اَخیارِ امت سے فیض یاب ہونے کے لئے تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ! اس مَدَنی ماحول کی برکت سے عمل کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور ان صالحین اُمَّت کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کا ذہن بنتا ہے، آئیے! دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو کر صحابہ وصالحین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُم اَجْمَعِیْن سے فیض یاب ہونے والی ایک اسلامی بہن کی قابلِ رشک مَدَنی بہار مُلاحظہ فرمائیے اور جھومئے، چنانچہ مرکز الاولیا (لاہور) کی ایک ذِمّے دار اسلامی بہن کے بیان کا خُلاصہ ہے کہ میری والِدہ ایک عرصے سے گُردوں کے مرض میں مبتلا تھیں۔ ربیع النُّور شریف کے پُرنور مہینے میں پہلی مرتبہ ہم ماں بیٹی دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے اللہ اللہ اور مرحبا یامصطفےٰ کی پُرکیف صداؤں سے گونجتے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اِجتِماع میں شریک ہوئیں۔ شرعی پردہ کرنے کے لئے مَدَنی بُرقع پہننے، آئندہ بھی سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کرنے اور مزید اچھی اچھی نیتیں کر کے ہم دونوں گھر لوٹ آئیں۔ رات کے وقْت امی جان کو یکایک



[1]   شرح الزرقانى على المواهب، المقصد الثانى، الفصل الثانى فى ذكر اولاده الكرام   الخ، ۴ / ۳۲۷ و ۳۲۷، ملتقطًا.

[2]   الاكمال فى اسماء الرجال، ۷۱۸-فاطمة الكبرىٰ، ص۸۷.

[3]   صحيح البخارى، كتاب فضائل اصحاب النبى صلى الله عليه وسلم، باب ذكر اصهارالخ، ص۹۴۵، الحديث:۳۷۲۹.

[4]   دیوانِ سالِک، ص۳۴.



Total Pages: 39

Go To