Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

حضرتِ ہند بن ابوہالہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ

صحابِیِ رسول ہیں، غزوۂ بدر اور ایک قول  کے مُطَابق غزوۂ اُحُد میں شریک ہوئے، حضرتِ سیِّدُنا امام حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا آپ سے رِوَایَت کرتے ہیں تو یوں کہتے ہیں:  میرے ماموں نے مجھ سے بیان کیا، کیونکہ حضرتِ ہند رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ، حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے اخیافی (ماں شریک) بھائی ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بہت فصیح وبلیغ اور اوصاف بیان کرنے کے بہت ماہر تھے، فرمایا کرتے تھے کہ والِد، والِدہ، بھائی اور بہن کے اعتبار سے مجھے سب سے زیادہ بزرگی حاصِل ہے کیونکہ میرے والِد رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، بھائی حضرتِ قاسم، بہن حضرتِ فاطمہ اور والِدہ حضرتِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُم ہیں۔ جنگِ جمل میں حضرتِ سیِّدُنا عَلِیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْـکَرِیْم کے ساتھ تھے اور اسی جنگ میں شہید ہوئے۔ ([1])

حضرتِ ہالہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ

یہ بھی ایمان لا کر شرفِ صحابیت سے مُشَرَّف ہوئے۔ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ان سے بہت محبت تھی، مروی ہے کہ ایک دفعہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آرام فرما رہے تھے کہ یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضِر ہوئے۔ حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیدار ہوئے تو انہیں سینۂ اقدس سے لگا کر بغایتِ محبت فرمایا:  ”ہالہ...!  ہالہ...!  ہالہ...!“ ([2])

حضرتِ ہِندہ بنتِ عتیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا

ابوہالہ کی موت کے بعد حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے عتیق بن عابِد مخزومی سے نِکاح فرمایا، اس سے ایک لڑکی ہِنْدہ پیدا ہوئی، ([3]) یہ بھی ایمان لائیں اور پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحابیت کا شرف پایا۔ ([4])

حضرتِ خديجه رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سےرسولِ خُدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَوْلادِ پاک

سرکارِ نامدار، دو عالَم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تین شہزادے اور چار شہزادیاں تھیں اور سِوائے حضرتِ ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے سب اولاد حضرتِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے ہوئی۔ ([5])

حضرتِ سیِّدُنا قاسِم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ

رسولِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سب سے پہلے فرزند ہیں، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کنیت ”ابو القاسم“ انہیں کی نسبت سے ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا قاسم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ، پیارے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِعْلانِ نبوت فرمانے سے پہلے پیدا



[1]   شرح الزرقانى على المواهب، المقصد الاول، تزويجه عليه السلام خديجة، ۱ / ۳۷۳، ملتقطًا

[2]    المعجم الاوسط، باب العين، من اسمه على، ۳ / ۳۷، الحديث:۳۷۹۴.

[3]    المواهب اللدنية، المقصد الثانى، الفصل الثالث فى ذكر ازواجه   الخ، ۱ / ۴۰۲.

[4]    شرح الزرقانى على المواهب، المقصد الاول، تزوجه عليه السلام خديجة، ۱ / ۳۷۳.

[5]   المواهب اللدنيه، المقصد الثانى، الفصل الثانى فى ذكر اولاده الكرام   الخ، ۱ / ۳۹۱.



Total Pages: 39

Go To