Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود بَہ نفس نفیس آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی قبر میں اترے ([1]) اور اپنے مقدس ہاتھوں سے دفن فرمایا۔

حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا جنتی محل میں

حضرتِ سیِّدُنا جابِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ سرورِ کائنات، فخرِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے بارے میں پوچھا گیا، فرمایا:  ”میں نے انہیں خول دار (اندر سے خالی) موتی سے بنے گھر میں دیکھا ہے جو جنتی نہروں میں سے ایک نہر پر واقع ہے، اس میں کوئی لغو (بےکار) شے ہے نہ کسی قسم کی تکلیف۔ ([2])

غموں وپریشانیوں کا سال

چونکہ حضرت سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اور ابوطالِب نے زندگی کے ہر ہر موڑ پر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نُصْرَت واِعانت (مدد) کی تھی اور ہر طرح کے مشکل وکٹھن اوقات میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ساتھ دیا تھا لہٰذا چند روز کے فاصلے سے یکے بعد دیگرے ان کا انتقال کر جانا  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے بہت ہی جاں گُداز اور رُوْح فَرْسا حادِثہ تھا۔یہی وجہ  ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سال کو غم واَلَم کا سال قرار دیا چنانچہ روایت میں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے عامُ الْحُزْن  (غم کا سال) کا نام دیا۔ ([3])

٭٭٭٭٭

سَیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا كی اَوْلاد

اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا وہ خوش نصیب اور بلند رتبہ خاتون ہیں جنہوں نے کم بیش 25 برس تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمتِ اقدس میں رہنے کی سعادت حاصِل کی اور سِوائے حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے کہ وہ حضرتِ ماریہ قبطیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے پیدا ہوئے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تمام اَوْلادِ اَطہار اِنہیں سے ہوئی ([4]) آپ مؤمنین کی سب سے پہلی ماں اور رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان لانے والی سب سے پہلی خاتون ہیں۔ شہنشاہِ ذی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نِکاح میں آنے سے پہلے دو مرتبہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا نِکاح ہو چکا تھا، پہلے ابوہالہ بن زُرَارَہ تمیمی سے ہوا۔§ ابوہالہ سے دو فرزند ہِنْد اور ہالہ پیدا ہوئے۔ ([5])

 



[1]    شرح العلامة الزرقانی على المواهب، المقصد الاول، وفاة خديجة وابى طالب، ۲ / ۴۹.

[2]    المعجم الکبیر للطبرانی، مناقب خدیجة رضی الله عنها   الخ، ۹ / ۳۹۵، الحديث:۱۸۵۴۰.

[3]    المواهب اللدنية، المقصد الاول، هجرته صلى الله عليه وسلم، ۱ / ۱۳۵.

[4]    فتح البارى، كتاب مناقب الانصار، باب تزويج النبى صلى الله عليه وسلم خديجة   الخ ، ۷ / ۱۷۲، تحت الحديث:۳۸۱۸، ملتقطًا.

§ بعض روایات میں ہے کہ پہلے عتیق بن عابد مخزومی سے ہوئی اس کی وفات کے بعد ابوہالہ بن زرارہ تمیمی سے۔ دیکھئے: [المعجم الكبير للطبرانى، ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه وسلم خديجة   الخ، ۹ / ۳۹۲، الحديث:۱۸۵۲۲]

[5]    المواهب اللدنية، المقصد الثانى، الفصل الثالث فى ذكر ازواجه   الخ، ۱ / ۴۰۲.



Total Pages: 39

Go To