Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

وَجَلَّ نے اس گراں گزرنے میں کثیر بھلائی رکھی ہے۔ تمہیں معلوم ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جنت میں میرا نکاح تمہارے ساتھ، مریم بنتِ عمران، حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بہن کلثم اور فرعون کی بیوی آسیہ کے ساتھ فرمایا ہے؟  ([1])

انتقالِ پُرملال

نبوت کے دسویں سال، رَمَضَانُ الْمُبَارَک کے مہینے میں جبکہ ابوطالِب کووفات پائے ابھی 3 یا 5 روز ہی ہوئے تھے ([2]) کہ دس تاریخ کو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے بھی پیکِ اَجَل کو لبیک کہتے ہوئے آخرت کے سفر کا آغاز فرمایا۔ بوقتِ وفات آپ کی عمر مُبارَک 65 برس تھی۔ ([3])

؏   وہ اُمُّ المسلمیں جو مادرِ گیتی کی عزت ہے

وہ اُمُّ المسلمیں قدموں کے نیچے جس کے جنت ہے

خدیجہ طاہرہ یعنی نبی کی باوفا بی بی

شریکِ راحت و اندوہ پابندِ رضا بی بی

دیارِ جاودانی کی طرف راہی ہوئیں وہ بھی

گئیں دنیا سے آخر سوئے فردوسِ بریں وہ بھی ([4])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب!                 صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

غسل اور نمازِ جنازہ

حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ ایمن اور رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی چچی حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ فضل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا نے آپ کو غسل دیا۔ ([5]) چونکہ جس وَقْت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا وِصال ہوا اس وقت تک نمازِ جنازہ کا حکم نہیں آیا تھا اس لئے  آپ پر جنازہ کی نماز نہیں پڑھی گئی۔ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:  ”فِی الْوَاقع (درحقیقت) کُتُبِ سِیَر (سیرت کی کتابوں) میں عُلَماء نے یہی لکھا ہے کہ اُمُّ المومنین خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے جنازۂ مُبَارَکہ کی نماز نہ ہوئی کہ اس وقت یہ نماز ہوئی ہی نہ تھی۔ اس کے بعد اس کا حکم ہوا ہے۔“ ([6])

تدفین

آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو مکہ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا میں واقع حَجُوْن§ کے مقام پر دفن کیا گیا۔ حُضُور رحمتِ عالَم، نورِ مجسم  



[1]   المعجم الكبير للطبرانى، ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه وسلم خديجة   الخ، ۹ / ۳۹۳، الحديث:۱۸۵۳۱.

[2]    المواهب اللدنية، المقصد الاول، هجرته صلى الله عليه وسلم، ۱ / ۱۳۵، بتقدم وتاخر.

[3]   امتاع الاسماع، فصل فى ذكر ازواج رسول الله صلى الله عليه وسلم، ام المؤمنين خديجة بنت خويلد، ۶ / ۲۸.

[4]   شاہنامہ اسلام، ۱ / ۱۳۵.

[5]    امتاع الاسماع، فصل فى ذكر ازواج رسول الله صلى الله عليه وسلم، ام المؤمنين خديجة بنت خويلد، ۶ / ۳۰.

[6]    فتاویٰ رضویہ، ۹ / ۳۶۹.

§ حَجُون مکہ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا کے بالائی حصے میں واقع ایک پہاڑ ہے، اس کے پاس اہل مکہ کا قبرستان ہے۔ [معجم البلدان، حرف الحاء والجيم   الخ، ۲ / ۲۲۵] اب اسے جَنَّتُ الْمَعْلٰی کہا جاتا ہے۔ شیخ طریقت، امیر اہلسنت حضرتِ علّامہ ابو بِلال محمد الیاس عطاؔر قادِری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  تحریر فرماتے ہیں:  جَنَّتُ الْبَقِیْع کے بعد جَنَّتُ الْمَعْلٰی دنیا کا سب سے افضل قبرستان ہے۔ یہاں اُمُّ المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ، حضرتِ سیّدُنا عبد الله بن عمر اور کئی صحابہ وتابعین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن اور اولیاء وصالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے مزاراتِ مقدسہ ہیں۔ اب ان کے قبے (یعنی گنبد) وغیرہ شہید کر دئیے گئے ہیں، مزارات مسمار کر کے ان پر راستے نکالے گئے ہیں۔ [رفیق المعتمرین، ص۱۲۳]



Total Pages: 39

Go To