Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

داری  اور دیانت داری کا شہرہ ہر خاص وعام کی زبان پر تھا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے غیر معمولی اَخلاقی ومُعَاشَرَتی اوصاف کی بِنا پر اخلاقی پستی کے اُس دَورِ جاہلیت میں ہی امین کہہ کر پکارے جانے لگے تھے۔ حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا  تک بھی اگرچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ان صفاتِ عالیہ کی شہرت پہنچ چکی تھی اور اس وجہ سے آپ، حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنا سامان دے کر تجارتی قافلے کے ساتھ روانہ بھی کرنا چاہتی تھیں لیکن یہ خیال کر کے کہ پتا نہیں حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اسے قبول فرمائیں گے بھی یا نہیں، اپنا ارادہ ترک کر دیتیں۔§

رسولِ انام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سفرِ شام

ابو طالِب کی درخواست

شب وروز گزرتے رہے حتی کہ رسولِ خدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اعلانِ نبوت سے تقریباً 15 برس پہلے کا دَور آ جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں کی طرح اس برس بھی شام کے سفر پر جانے کے لئے اہل عرب کا تجارتی قافلہ تیار ہے، تاجِر حضرات تیاریوں میں مصروف ہیں، اس سال حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا ابوطالب کی مالی حالت بہت کمزور ہے، غربت و مفلسی کے ہاتھوں مجبور ہو کر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اپنے بھتیجے حضرتِ سیِّدنا محمد مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو قافلے کے ساتھ بھیجنے کا فیصلہ کرتے ہیں، مروی ہے کہ انہوں نے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کہا:  اے بھتیجے! میں ایسا آدمی ہوں جس کے پاس مال و دولت نہیں، ہمیں سنگین حالات درپیش ہیں، خشک سالی کے بُرے سال برقرار ہیں اور ہمارے پاس سازوسامان ہے نہ مالِ تجارت۔ یہ آپ کی قوم کا قافلہ شام کی طرف روانہ ہونے والا ہے اور خدیجہ بنتِ خُوَیْلِد بھی قوم کے بیشتر افراد کو قافلے میں بھیج رہی ہیں جو اس کے مال سے تجارت کریں گے اور نفع پائیں گے۔ اگر آپ ان کے پاس جائیں اور ان کا مال خود لے جانے کی پیشکش کریں تو مجھے یقین ہے کہ وہ آپ کا انتخاب کرنے میں دیر نہیں کریں گی مزید یہ کہ آپ کو دوسروں پر فضیلت دیں گی کیونکہ اُنہیں آپ کی طہارت و پاکیزگی کی خبریں پہنچی ہوئی ہیں۔ اگرچہ میں، آپ کا شام جانا پسند نہیں کرتا اور آپ کی جان پر یہودیوں کی طرف سے اندیشہ کرتا ہوں لیکن اب اس کے سِوا کوئی چارہ بھی نہیں۔ ([1])

سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا جواب

جب ابوطالِب نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس جا کر خود کو تجارت کے لئے پیش کرنے کا کہا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کسی کے پاس سائل و طالِب بن کر جانے کو ناپسند جانا، رِوایت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جواباً اِرشاد فرمایا:  ”فَلَعَلَّهَا اَنْ تُرْسِلَ اِلَیَّ فِیْ ذٰلِکَ  شاید کہ وہ خود ہی مجھے اس سلسلے میں بُلا بھیجے۔“ اس پر ابوطالِب نے کہا:   مجھے اندیشہ ہے کہ وہ کسی اور کو منتخب کر لیں گی اور پھر آپ ایسی چیز کو طلب کریں گے جو منہ پھیر چکی ہو گی۔ ([2])

 



٭ جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔

[1]   دلائل النبوة للاصبهانى، الفصل الحادى عشر، ذكر خروج النبى صلى الله عليه وسلم الى الشام ثانيا   الخ، ۱ / ۱۷۳.

[2]   المرجع السابق.



Total Pages: 39

Go To