Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

ساتویں خصوصیت

سیِّدُ الْاَنبیا، محبوبِ کِبْرِیَا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ظُہُورِ نبوت کی سب سے پہلی خبر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو ہی پہنچی۔ ([1])

آٹھویں خصوصیت

سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر (عورتوں میں) سب سے پہلے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے ہی ایمان لانے کی سعادت حاصل کی۔ ([2])

نویں خصوصیت

تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد اسلام میں سب سے پہلے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے نماز پڑھی اور  حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِقْتِدا میں پڑھی۔ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃ ُالرَّحْمٰن فرماتے ہیں:  حُضُور سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر اوّل بار جس وقت وحی اتری اور نبوتِ کریمہ ظاہِر ہوئی اسی وَقْت حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے بہ تعلیم جبریْلِ امین عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالتَّسْلِیْم نماز پڑھی اور اسی دن بہ تعلیم اقدس حضرتِ اُمُّ المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے پڑھی، دوسرے دن امیر المؤمنین عَلِیُّ مرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْاَسْنٰی نے حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے ساتھ پڑھی کہ ابھی سورۂ مُزَّمِّل نازِل بھی نہ ہوئی تھی تو ایمان کے بعد پہلی شریعت نماز ہے۔ ([3])

دسویں خصوصیت

حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن علی بن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نقل فرماتے ہیں:  اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ممتاز اوصاف میں سے ایک وَصْف یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ہمیشہ پیارے وکریم آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم کرتی رہیں اور بعثت سے پہلے اور بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی باتوں کی تصدیق کرتی رہیں۔ ([4])

٭٭٭٭٭٭

سفرِ آخرت

اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار، دو عالَم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رشتہ اِزدِواج میں منسلک ہونے کے بعد تاحیات آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں مصروف رہیں۔ بالآخر جب پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اعلانِ نبوت فرمائے دسواں سال شروع ہوا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے وصال شریف کا وقت بھی قریب  آ گیا۔

جنت میں زوجیت کی بشارت

حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا مرضِ وفات شریف میں  مبتلا تھیں کہ سرکارِ دوعالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا:  اے خدیجہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا) ! تمہیں اس حالت میں دیکھنا مجھے گراں (ناگوار) گزرتا ہے لیکن اللہ عَزَّ



[1]   مراٰۃ المناجیح، وحی کی ابتداء، پہلی فصل، ۸ / ۹۷، بتغیر قلیل.

[2]    السنن الكبرى للبيهقى، كتاب قسم الفىء والغنيمة، باب اعطاء الفىء الخ، ۶ / ۵۹۷، الحديث:۱۳۰۸۱.

[3]    فتاویٰ رضویہ، ۵ / ۸۳.

[4]   الاصابة، كتاب النساء، ۱۱۰۹۲-خديجة بنت خويلد رضى الله عنها، ۸ / ۱۱۲.



Total Pages: 39

Go To