Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

پہلی خصوصیت

آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سب سے پہلے سرورِ کائنات، فخرِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رشتۂ زوجیت میں منسلک ہوئیں اور اُمُّ المؤمنین یعنی قیامت تک کے سب مؤمنین کی ماں ہونے کے پاکیزہ و اعلیٰ منصب پر فائز ہوئیں۔

دوسری خصوصیت

رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی حَیَات میں کسی اور سے نِکاح نہیں فرمایا۔ ([1])

تیسری خصوصیت

رسولِ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دیگر ازواجِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کی نسبت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے کبھی کوئی ایسی بات سرزد نہیں ہوئی جس پر  سیِّدِ عالَم،نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غضب فرمایا ہو، حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن علی بن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نقل فرماتے ہیں:  اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ہمیشہ ہر ممکن کے ذریعے سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا  پانے کی حریص وخواہش مند رہیں اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے کبھی کوئی ایسی بات صادر نہیں ہوئی جس پر پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غضب  فرمایا ہو جیسے دوسری ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کے لئے فرمایا۔ ([2])

چوتھی خصوصیت

سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تمام اولاد سِوائے حضرتِ ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ  کے، آپ ہی سے ہوئی۔ ([3]) §

پانچویں خصوصیت

آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا قیامت تک کے تمام سادات کی نانی جان ہیں کیونکہ سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آلِ پاک خاتونِ جنت حضرتِ فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے چلی ہے اور حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی شہزادی ہیں۔

چھٹی خصوصیت

دیگر ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کی نسبت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے سب سے زیادہ عرصہ کم و بیش 25 برس رسولِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رفاقت وہمراہی میں رہنے کا شرف حاصل کیا۔ ([4])

 



[1]    صحيح مسلم، كتاب فضائل صحابة رضى الله عنهم، باب فضائل خديجة الخ، ص۹۴۹، الحديث:۲۴۳۶.

[2]    فتح البارى، كتاب مناقب الانصار، باب تزويج النبي صلى الله عليه وسلم خديجة   الخ، ۷ / ۱۷۳، تحت الحديث:۳۸۲۰.

[3]    المواهب اللدنية، المقصد الثانى، الفصل الثانى في ذكر اولاده   الخ، ۱ / ۳۹۱.

§ حضرتِ ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ، پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی باندی حضرتِ ماریہ قبطیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے شکم سے پیدا ہوئے۔ [مواهب اللدنية، المقصد الثانى، الفصل الثانى فى ذكر اولاده الكرام عليه وعليهم الصلوة والسلام، ۱ / ۳۹۷]

[4]    فتح البارى، كتاب مناقب الانصار، باب تزويج النبى صلى الله عليه وسلم خديجة   الخ ، ۷ / ۱۷۲، تحت الحديث:۳۸۱۸، ماخوذاً.



Total Pages: 39

Go To