Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

(۱) ...خدیجہ بنتِ خُوَیْلِد

 (۲) ...فاطِمہ بنتِ مُحَمَّد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)

 (۳) ...فرعون کی بیوی آسیہ بنتِ مُزَاحِم

 (۴) ...اور مَرْیَم بنتِِ عِمْرَان۔ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ) ([1])

دنیا میں جنتی پھل سے لطف اندوز

اُمُّ المؤمنین حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو دنیا میں رہتے ہوئے جنّتی پھل سے لطف اندوز ہونے کا شرف بھی حاصل ہے چنانچہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو جنّتی انگور کِھلائے۔ ([2])

؏   مالِکِ کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں

دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں ([3])

نماز کی ادائیگی

اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو اسلام کے دنیا میں جلوہ گر ہونے کے پہلے روز ہی نماز پڑھنے کا شرف حاصل ہے، چنانچہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃ ُالرَّحْمٰن فرماتے ہیں:  حُضُور سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر اوّل بار جس وقت وحی اتری اور نبوتِ کریمہ ظاہِر ہوئی اسی وقت حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے بہ تعلیم جبریل امین عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالتَّسْلِـیْم نماز پڑھی اور اسی دن بہ تعلیم اقدس حضرتِ اُمُّ المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے پڑھی، دوسرے دن امیر المؤمنین عَلِیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْاَسْنٰی نے حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے ساتھ پڑھی۔ ([4])

حضرتِ ابورافع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پیر کے روز صبح کے وقت نماز پڑھی، حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے پیر کے دن اس کے آخری حصے میں اور حضرتِ عَلِیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْـکَرِیْم نے منگل کے دن نماز پڑھی۔ ([5])

خُصُوصیات

پیاری پیاری اسلامی بہنو! اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو جو کثیر فضائل و مناقِب عطا ہوئے ان میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی خصوصیات بھی ہیں، ذیل میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی چند خصوصیات بیان کی جاتی ہیں، چنانچہ

 



[1]    مسند احمد، مسند بنى هاشم، مسند عبد الله بن العباس   الخ، ۲ / ۲۴۱، الحديث:۲۷۲۰.

[2]    المعجم الاوسط للطبرانى، باب الميم، من اسمه محمد، ۳ / ۳۱۵، الحديث:۶۰۹۸.

[3]    حدائق بخشش، حصہ اوّل، ص۱۰۳.

[4]   فتاویٰ رضویہ، ۵ / ۸۳.

[5]   المعجم الكبير للطبرانى، باب من اسمه ابراهيم، عبيد الله بن ابى رافع عن ابيه، ۱ / ۲۵۱، الحديث:۹۴۵.



Total Pages: 39

Go To