Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

رِوايَتِ مذکورہ بالا سے ماخوذ  2 مَدَنی پُھول

حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی شانِ فقاہت

یہ رِوایَت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی فقاہت اور فہم ودانش کی کثرت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سلام کے جواب میں اس طرح نہیں کہا:  ”عَلَیْہِ السَّلَام اُس پر سلامتی ہو۔“ کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اپنی بےمِثَال فہم وفِراست سے یہ بات جان لی تھی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سلام کا جواب اس طرح نہیں دیا جائے گا جیسے مخلوق کو دیا جاتا ہے، سَلَام تو اس کے ناموں میں سے ایک نام ہے  نیز ان الفاظ کے ذریعے مخاطب کو سلامتی کی دُعا دی جاتی ہے، چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اسے مقامِ رَبُوبِیَّت کے لائق نہ جانتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سلام کے جواب میں اس کی حمد وثنا بیان کی، پھر جبریل عَلَیْہِ السَّلَام اور پھر رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں جوابِ  سلام عَرْض کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بھیجنے والے کے ساتھ ساتھ پہنچانے والے کو بھی سلام کا جواب دینا چاہئے۔ ([1])

اگر کوئی کسی کا سلام لائے تو...؟

 (جب کوئی کسی کا سلام پہنچائے تو اس کا) جواب یوں دے کہ پہلے اس پہنچانے والے کو اس کے بعد اس کو جس نے سلام بھیجا ہے یعنی یہ کہے:  ”وَعَلَیْکَ وَعَلَیْہِ السَّلَام ([2])

یاد رہے کہ سلام کے جواب میں یہ الفاظ اُس وقت کہے جائیں گے جب بھیجنے والا اور پہنچانے والا دونوں مَرد ہوں اگر دونوں عورتیں ہوں تو اس طرح کہیں گے:  ”وَعَلَیْکِ وَعَلَیْھَا السَّلَاماگر بھیجنے والا مَرد اور پہنچانے والی عورت ہو تو اس طرح کہیں گے:  ”وَعَلَیْکِ وَعَلَیْہِ السَّلَام“ اور اگر اس کا الٹ ہو یعنی بھیجنے والی عورت اور پہنچانے والا مَرد ہو تو اس طرح کہیں گے:  ”وَعَلَیْکَ وَعَلَیْھَا السَّلَام

شوہر کی دل جُوئی

ایک مَدَنی پُھول یہ بھی چننے کو ملا کہ عورت کو اپنے شوہر کی خدمت کے لئے حتی المقدور بھرپور کوشش کرنی چاہئے، تنگی وپریشانی کے مَواقِع پر غم خواری اور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس کی دل جُوئی اور تسکین قلب کا سامان کرنا چاہئے کہ یہ صفت بارگاہِ الٰہی عَزَّ  وَجَلَّ میں بہت محبوب ہے، لیکن افسوس! آج کل عورتیں اطمینان وتسکین قلب کا سامان کرنے کے بجائے طرح طرح کی فرمائشیں اور جھگڑے کر کے الٹا پریشانی میں اِضافے کا باعث بنتی ہیں، انہیں اُمُّ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی مُبارَک حَیَات سے سیکھنا چاہئے اور گھریلو جھگڑوں وناچاقیوں کا سبب بننے سے بچتے ہوئے گھر کو امن وسکون کا گہوارہ بنانا چاہئے۔

چار افضل جنتی خواتین

آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ان چار خواتین میں سے ہیں جنہیں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جنّتی عوتوں میں سب سے افضل قرار دیا ہے، جیسا کہ  حضرتِ سیِّدُنا عبد الله بن عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا سے رِوَایَت ہے، فرماتے ہیں کہ ایک بار رسولِ کائنات، شہنشاہِ موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے زمین پر چار خُطُوط کھینچ کر فرمایا:  تم جانتے ہو یہ کیا ہیں؟  صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے عَرْض کی:  ”اَللہُ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَمُ یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اور اس کا رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔“ فرمایا:  جنّتی عورتوں میں سب سے زِیادہ فضیلت والی یہ عورتیں ہیں:  

 



[1]    فتح الباری، كتاب مناقب الانصار، باب تزويج النبى صلى الله عليه وسلم الخ، ۷ / ۱۷۴، تحت الحديث:۳۸۲۰، ملتقطاً.

[2]   بہارِ شریعت، حصہ۱۶، ۳ / ۴۶۳.



Total Pages: 39

Go To