Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

میں خول دار (اندر سے خالی) موتی سے بنے ہوئے گھر کی بشارت دیجئے جس میں شور ہے نہ کوئی تکلیف۔ ([1])

سلام کا جواب

حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا:  ”اِنَّ اللہَ ھُوَ السَّلَامُ وَعَلٰی جِبْرِیْلَ السَّلَامُ وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سَلَام ہے اور حضرتِ جبریل عَلَیْہِ السَّلَام اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سلامتی، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔“ ([2])

سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ! اس مؤمن کی عَظَمت کے کیا کہنے جسے اللہُ السَّلام عَزَّ  وَجَلَّ خود ”سلام“ فرمائے مزید برآں جنّتی محل کی بشارت بھی سنائے۔

؏  مادرِ اوّلیں اہل ایمان کی

ہے یہ اس کی بزرگی و پاکیزگی

برگزیدہ ہے ربِّ مُحَمَّد کی بھی

عرش سے جس پہ تسلیم نازِل ہوئی

اُس سرائے سلامت پہ لاکھوں سلام

اُس کا جبریل ملحوظ رکھے ادب

جنتی گوہریں§ گھر اُسے بخشے ربّ

کوئی تکلیف اس میں نہ شور و شغب

مَنْزِلٌ مِّنْ قَصَبْ لَا نَصَبْ لَا صَخَبْ§

ایسے  کوشک§  کی  زِینت  پہ  لاکھوں  سلام ([3])

خیال رہے کہ ”یہ واقعہ حُضُورِ انور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے غارِ حرا میں تشریف فرما ہونے کا ہے۔ ایک بار حضرتِ خدیجہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا) ، حُضُور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے لئے کھانا لے کر وہاں حاضر ہوئیں تب حضرتِ جبریل (عَلَیْہِ السَّلَام) نے یہ خبر دی۔“ ([4])

 



[1]   صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب تزویج النبی صلی الله عليه وسلم، ص۹۶۲، الحديث:۳۸۲۰، ملتقطاً.

[2]    السنن الكبرى للنسائى، كتاب المناقب، مناقب خديجة   الخ، ۷ / ۳۸۹، الحديث:۸۳۰۱

§ موتی سے بنا ہوا جنتی گھر۔

§ یاقوت جڑے ہوئے موتی سے بنایا گیا گھر جس میں شور ہے نہ کوئی تکلیف۔

§ محل، بلند وبالا عمارت۔

[3]   برہانِ رحمت، ص۴۹.

[4]   مراٰۃ المناجیح، ازواجِ پاک کے فضائل، پہلی فصل، ۸ / ۴۹۵.



Total Pages: 39

Go To