Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

کی بدولت زمانۂ جاہلیت میں ہی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو طاہِرہ کے لقب سے پکارا جانے لگا تھا۔ سیِّدُ الْاَنبیا، محبوبِ کِبْرِیَا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب اِعلانِ نبوت فرمایا تو یہ بغیر کسی تَوَقُّف کے ایمان لے آئیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بھرپور نُصْرَت واِعَانَت (مدد) کی، دین اسلام  کی تبلیغ و اِشاعت کی راہ میں حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کُفّار کی جانب سے ستایا جاتا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تکذیب کی جاتی جس کی وجہ سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رنجیدہ و پُرملال ہوکر واپس تشریف لاتے تو سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ہی تھیں جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دل جُوئی اور تسکین قلب کا سامان کرتیں، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم وتوقیر بجا لاتیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نبوت ورِسالَت کی تصدیق کرتیں، اس طرح حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ذریعے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ، حُضُورِ عالی وقار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وہ رنج وغم کی کیفیت دُور فرما دیتا ۔حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ایمان کی پختگی اور مضبوطی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ  جب پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شہزادےحضرتِ سیِّدُنا قاسِم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کا انتقال ہوا حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے عَرْض کی:  یا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!قاسِم کا دودھ بہت اتر آیا ہے کاش! اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے مدتِ رضاعت مکمل ہونے تک زندہ رکھتا۔ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:  اس کی رضاعت جنت میں پوری ہو گی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے عَرْض کیا:  یا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر میں اس بات کو جانتی تو مجھ پر یہ کام سَہْل ہو جاتا۔ سرکارِ  مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:  اگر تم چاہو تو میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دُعا کر دوں اور تم اِس کی آواز سن لو؟  اس پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے عَرْض کیا:  نہیں،بلکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تصدیق کرتی ہوں۔([1])

سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ! ایک نادیدہ بات پر اس قدر پختہ ایمان کہ دیکھنے وسننے کی حاجت ہی نہ سمجھی اور بِن دیکھے وسنے ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تصدیق کر دی۔یہ اس دَور کی بات ہے جب سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تصدیق کرنے والے بہت تھوڑے تھے، ہر چہار جانب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی  تکذیب کا شورِ بدتمیز بپا تھا لیکن قربان جائیے اُمُّ المؤمنین سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا پر کہ ایسے پُرآشوب ایّام میں بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پایۂ ثبات میں لغزِش نہ آئی اور آپ دم بہ دم اور قدم بہ قدم رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہم سفر وہم ساز رہیں ۔ یقیناً آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا مؤمنین کی باعِثِ فخر امّی جان ہیں رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا۔

شور وغُل سے پاک محل کی بشارت

حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر پختہ ایمان و اِیْقان اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم وتوقیر وغیرہ خدمات کے صلے میں بارگاہِ ربِّ ذُوْالْجلال سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو جنت میں پُرسُکُون محل عطا کئے جانے کی نویدِ سعید سنائی گئی جیساکہ بخاری شریف میں حضرتِ سیِّدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے مروی ہے کہ (ایک دفعہ) حضرتِ سیِّدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے  رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمتِ اقدس میں حاضِر ہو کر عَرْض کیا:  یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ خدیجہ آ رہی ہیں، ان کے پاس برتن ہے جس میں کھانا ہے۔ جب وہ آپ کے پاس پہنچیں تو انہیں ان کے ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کا اور میرا سلام کہئے اور جنت



[1]    سنن ابن ماجة، كتاب الجنائز، باب ماجاء فى الصلاة على ابن   الخ، ص۲۴۳، الحديث:۱۵۱۲



Total Pages: 39

Go To